یوتھیوں کو 9 مئی پر سزائیں: غیر ممالک دھمکیاں کیوں دینے لگے؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں عمران خان کیخلاف تنگ ہوتے ہوئے شکنجے کو دیکھتے ہوئے برطانیہ اور یورپی یونین کے بعد امریکہ نے بھی چیخیں مارنا اور دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے تاہم شاید امریکہ یہ بھول بیٹھا ہے کہ امریکہ میں وائٹ ہاوس سمیت امریکی ریاستی اداروں پر حملہ کرنے والے ملزمان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا۔ انھیں امریکی عدالتوں نے کتنی سخت سزائیں سنائی تھیں۔ کیا اس وقت انسانی حقوق کو کوئی پامالی نہیں ہوئی تھی جو امریکہ کو پاکستانی یوتھیوں کو دی گئی سزاوں پر انسانی حقوق کی پامالی یاد آ گئی۔ مبصرین کے مطابق دوسری جانب یورپی یونین نے بھی اپنے بیان میں پاکستان کو تجارت کے لیے 2014 میں ملنے والے یورپی یونین کی ‘جی ایس پی پلس’ حیثیت کا ذکر کرکے یہ دھمکی دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر پاکستان نے اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ایسی کوئی سخت سزا سنائی تو اسے جی ایس پی پلس سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب مبصرین 25 شرپسند یوتھیوں کو فوجی عدالتوکی جانب سے سنائی جانے والی سزاوں پر امریکہ اور یورپی ممالک کے تبصروں کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کار اور سینئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپی یونین کے بیانات پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے کیونکہ پاکستان میں فوجی عدالتیں اس وقت آئین اور قانون کے دائرۂ کار کے اندر کام کر رہی ہیں۔
اُن کے بقول جن لوگوں نے ملک کے اہم مقامات پر منظم حملے کیے انہیں سزائیں سنائی گئی ہیں جس دوران انہیں اپنے دفاع کا بھرپور حق حاصل تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہیں ابھی بھی ہائی کورٹس اور ان کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی اپیل کا حق حاصل ہے۔ ایسی صورتِ حال میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی طرف سے ایسے بیانات ناقابل قبول ہیں۔
سلمان غنی کا کہنا تھا کہ مغربی دنیا کی طرف سے پاکستان پر لگاتار دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور پاکستان کو مختلف بہانوں سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اُن کے بقول حالیہ دنوں میں میزائل پروگرام پر پابندی کے لیے ایک سرکاری ادارے سمیت پاکستان کی چار کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اب یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کے فوجی عدالتوں بارے بیانات سامنے آ گئے ہیں۔
سلمان غنی کہتے ہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ عمران خان کے دور میں بھی فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل ہوا اور بعض افراد اب بھی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ اس وقت یورپی یونین، امریکہ یا برطانیہ کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا تھا۔ سوال پیداہوتا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک اس وقت کیوں خاموش تھے اور اب کیوں چیخ رہے ہیں۔
تاہم تجزیہ کار اور ماہر معیشت ڈاکٹر ندیم حق کہتے ہیں کہ اگر یورپی یونین کے اس بیان کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو پاکستان کا ‘جی ایس پی پلس’ اسٹیٹس ختم ہونے سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اُن کے بقول اس وقت پاکستان کی کل برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ اگر یہ اسٹیٹس ختم ہوا تو پاکستان کی برآمدات پر لازمی طور پر فرق پڑے گا اور اگر یہ فرق ایک سے دو ارب ڈالر بھی ہوا تو ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہو گا۔
بین الاقوامی تجارت کے ماہرین کے مطابق اس وقت یورپی یونین کی طرف یہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستانی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ پاکستان جب یورپ میں برآمدات کرتا ہے تو پاکستانی تاجروں کو زیرو ریٹڈ اور کسی ٹیکس کے بغیر اپنی مصنوعات یورپی منڈیوں میں بھجوانے کا موقع ملتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صرف جی ایس پی اسٹیٹس ہو تو پاکستان کو ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جس کی وجہ سے اسلام آباد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
