9 مئی کی سزاؤں کے بعد PTI اور اس کی تحریک بھی خطرے میں

انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 9 مئی حملوں کے کیسز میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو مجنوعی طور پر 30 برس قید کی سزاؤں کا اعلان ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں۔ ان سزاؤں کے اعلان کے بعد 5 اگست سے عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا ہے چونکہ پارٹی کی مرکزی قیادت گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہونا شروع ہو گئی ہے۔ عمر ایوب خان دو روز پہلے ہی ممکنہ سزا کے پیش نظر اسلام آباد چھوڑ کر خیبر پختونخواہ فرار ہو گئے تھے جہاں وہ اب روپوش ہو چکے ہیں۔ شبلی فراز بھی سزا کے اعلان سے پہلے ہی دل کی بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال چلے گئے تھے اور اب ان کے بھی روپوش ہونے کی خبریں گرم ہیں۔ حکومتی حلقوں کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عدالتی سزاؤں کے اعلان کے بعد ان ممبران قومی اسمبلی کی پارلیمان سے نااہلی کا پروسیس بھی شروع کر دیا ہے۔

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز سمیت پی ٹی آئی کے 200 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو دس دس برس قید کی سزائیں سنا دی ہیں جبکہ ڈبل گیم کھیلنے والے بھگوڑے فواد چوہدری اور زین قریشی حسب توقع بری کر دیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی ان کیسز میں نامزد تھے لیکن انکے خلاف مقدمات چلائے ہی نہیں گئے۔ باخبر حکومتی حلقوں کا دعوی ہے کہ گنڈاپور کا بھائی لوگوں کے ساتھ مک مکا ہو چکا ہے اور اسی لیے انہیں فواد چودری اور زین قریشی کی طرح ہاتھ نہیں لگایا گیا۔

31 جولائی کو مجموعی طور پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے حملوں کے تین کیسز کے فیصلے سنائے۔ عدالت نے تین کیسز میں 200 سے زائد نامزد ملزمان کو دس، دس سال قید کی سزائیں سنائیں۔ خصوصی عدالت نے فیصل آباد میں انٹر سروسز انٹیلیجنس کے دفتر پر حملے کے کیس میں 185 نامزد ملزمان میں سے 108 کو سزائیں سنائیں جبکہ دیگر کو بری کر دیا گیا ہے۔ متوقع عدالتی فیصلے کی بھنک پڑتے ہی اسلام آباد سےخیبر پختونخوا کی جانب فرار ہو جانے والے عمر ایوب خان، شبلی فراز اور زرتاج گل کو دس دس سال قید کی تین علیحدہ علیحدہ سزائیں سنائی گئی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان تینوں کو مجموعی طور پر تیس، تیس سال قید ہو گی۔ اسکے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر حسین بھٹی کے داماد اور سابق سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی کے بیٹے، جنید افضل ساہی کو صرف تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جو عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں میں سب سے کم سزا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حسب توقع میدان سیاست کے فصلی بٹیرے فواد چوہدری اور بار بار اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے والے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کو بھی بری کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے دراصل سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 8 اگست کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے سنائے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ ایک پٹیشن پر یہ فیصلہ دیا تھا کہ 9 مئی کے کیسز میں ملوث افراد کے خلاف فیصلے آٹھ اگست 2025 تک سنا دیے جائیں اور اس معاملے کو مزید لمبا نہ کیا جائے۔ چنانچہ اب اوپر تلے 9 مئی حملہ کیسز کے فیصلے سنائے جا رہے ہیں۔

پانچ اگست کو PTI کا سیاسی دھڑن تختہ ہونا یقینی کیوں ہے؟

 

یاد رہے کہ چند روز قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کو 9 مئی کا مجرم قرار دیتے ہوئے دس دس سال کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان سزاؤں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن نے سزا یافتہ اراکین اسمبلی کو نااہل کر دیا تھا۔

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں 75 اراکین قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کو سزائیں ملنے کا امکان ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن انہیں نااہل بھی کر دے گا۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کی نااہلی کے بعد اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کو بھی ناہل کر دیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت بظاہر 9 مئی کے مقدمات کا سامنا کرنے والا تحریک انصاف کا ہر رکن اسمبلی ناہل ہونے جا رہا ہے، چاہے اس کا تعلق قومی اسمبلی سے ہو، پنجاب اسمبلی سے یا خیبر پختونخوا اسمبلی سے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے درجنوں غیر منتخب رہنما بھی 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں پانے جا رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ یوں موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 75 اراکین نااہلی کے خدشے سے دوچار ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سزاؤں کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت روپوش ہونا شروع ہو گئی ہے لہذا تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

Back to top button