عمران خان کی تصاویر والی پتنگوں پر پنجاب حکومت کی پابندی

 

 

 

تحریک انصاف کے سپورٹرز کی جانب سے بسنت کے تین دنوں کے دوران عمران خان کی تصاویر اور پی ٹی آئی کے جھنڈوں والی پتنگیں اڑائے جانے کے امکان کے بعد پنجاب حکومت نے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے عمران خان کی تصاویر سمیت تمام مذہبی اور سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کے تحت پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی شخصیت یا کسی ملک اور سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر لگانے کی اجازت نہیں ہو گی، تاکہ بسنت کو محض ایک تفریحی و ثقافتی تہوار تک محدود رکھتے ہوئے امنِ عامہ اور مذہبی و سیاسی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکومتی پابندی پر پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے سخت رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ پنجاب حکومت کے بسنت کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان کی تصاویر اور قیدی نمبر 804 کے سلوگن والی پتنگیں خوب وائرل ہو رہی تھیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دعوے کیے کہ بسنت کے دوران آسمان عمران خان کی تصاویر والی پتنگوں سے بھر جائے گا، تاہم حکومت نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ 27 جنوری کو محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے موقع پر مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے اہم پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے کی مکمل ممانعت ہوگی۔ اس کے علاوہ کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی سخت پابندی ہوگی۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ 30 روز کے لیے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہوگی، اور خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت یا استعمال قابلِ تعزیر جرم شمار کیا جائے گا۔ بسنت کے دوران صرف بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔دفعہ 144 کے تحت یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ دو دہائیوں بعد لاہور کی فضا ایک بار پھر بسنت کے رنگوں سے جگمگانے جا رہی ہے، تاہم حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی گورنمنٹ سپانسرڈ کنٹرولڈ بسنت کے لیے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان قواعد کے تحت 6 سے 8 فروری کے دوران نہ ہر سائز کی پتنگ اڑانے کی اجازت ہو گی اور نہ ہر قسم کی ڈور استعمال کی جا سکے گی۔ حکام کے مطابق بسنت کے لیے طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی پر نہ صرف لاکھوں روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا بلکہ سنگین صورت میں طویل قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں بسنت کے دوران کتنی بڑی پتنگ اڑانے کی اجازت ہو گی؟ کون سی ڈور استعمال کی جا سکے گی اور کن چیزوں پر مکمل پابندی عائد ہو گی؟

 

حکام کے مطابق 6 سے 8 فروری تک پنجاب میں منائے جانے والےبسنت کے تہوار کے دوران صرف 35 انچ کی پتنگ اور 40 انچ کا گڈا اڑانے کی اجازت ہو گی، جبکہ مقررہ سائز سے بڑی پتنگ یا گڈا اڑانے پر مکمل پابندی عائدہو گی۔ بسنت کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کے لیے ستھرا پنجاب کے ورکروں کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی مکمل طور پر ممنوع ہو گی اور صرف پنا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ پتنگ بازی کے لیے صرف کاٹن کے نو دھاگوں پر مشتمل ڈور استعمال کی جا سکے گی، جبکہ نائیلون یا دھاتی تار پر مشتمل ڈور پر مکمل پابندی ہو گی۔حفاظتی اقدامات کے تحت لاہور میں چلنے والی تمام موٹر سائیکلوں کے لیے کائٹ فلائنگ رولز 2025 کے چیپٹر 3 میں درج حفاظتی خصوصیات، بشمول سیفٹی وائر، پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کے پتنگ بازی کرنے پر پہلی مرتبہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دیا جائے گا۔ مشروط اجازت کے باوجود پتنگ بازی کے قوانین کی خلاف ورزی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ بغیر حکومتی اجازت پتنگ اڑانے پر 3 سے 5 سال قید اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تیز دھار مانجھا یا ڈور، جو عموماً کیمیکل یا شیشہ پیس کر تیار کی جاتی ہے، کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی پر کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 7 سال قید کے ساتھ 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ بغیر اجازت یا رجسٹریشن کے پتنگ بازی، اس کی تیاری، فروخت یا نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

نمبر پلیٹس کی نیلامی،KPحکومت نے عمران خان کو کیوں نکالا؟

واضح رہے کہ پنجاب میں پتنگ بازی کے سبب جان لیوا واقعات کے بعد حکومت 2001 کے بعد سے اس پر وقتاً فوقتاً پابندیاں عائد کرتی رہی ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل پتنگ بازی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں بسنت کا تہوار باقاعدہ طور پر پہلی بار 2007 میں اس وقت ممنوع قرار دیا گیا جب پتنگ کی ڈور سے سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2018 میں حمزہ شہباز شریف کے  دور اقتدار پتنگ بازی پر سے پابندی مختصر طور پر اٹھائی گئی تھی، لیکن درجنوں اموات کے بعد فوری طور پر دوبارہ پابندی نافذ کر دی گئی تھی۔ تاہم اب مریم نواز حکومت نے نواز شریف کی خواہش پوری کرتے ہوئے ایک بار پھر بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے۔

 

Back to top button