پنجاب حکومت نے لاہور میں 3روزبسنت منانےکی اجازت دے دی

25 سال بعد پنجاب حکومت نے ایک بار پھر سخت پابندیوں کے ساتھ لاہور میں خونی تہوار بسنت منانے کی  اجازت دے دی جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے پتنگ بازوں کو 7سال تک قید اور 50لاکھ روپت تک جرمانے کی وارننگ بھی دے دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے صرف لاہور میں 6سے 8فروری تک تین دن کیلئے بسنت منانے کی اجازت دیتے ہوئے پتنگ بازی کے دوران چرخی کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا ہے جبکہ بڑی سائز کی پتنگ اڑانے پر بھی پابندیعائد کر دی اس کے ساتھ ساتھ نائلون، پلاسٹک کی ڈور یعنی تندی، دھاتی تار اور کیمیکل ڈور کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کو بھی سختی سے ممنوع قرار دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، تاہم لاہور میں ڈور پھرنے سے دو افراد کی اموات کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرین کی گردن پر پتھر لگنے سے اموات واقع ہوئیں، تاہم واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد بسنت کی اجازت دینے والی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہی نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا بلکہ بسنت کی تمام تیاریاں بھی عارضی طور پر روک دی تھیں۔ تاہم اب ڈور پھرنے سے21 سالہ نوجوان کی موت کے 60روز بعد پنجاب حکومت نے تین روز کیلئے بسنت منانے کی اجازت دیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع لاہور کی حدود میں تین دن کے لیے پتنگ بازی کی اجازت ہو گی۔ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو لاہور میں پتنگ بازی کی جا سکے گی۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اجازت سخت قواعد و ضوابط کے تحت دی گئی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری اور تجارت کی اجازت 30 دسمبر 2025 سے 8 فروری 2026 تک ہو گی، تاہم اس کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ عام شہریوں کے لیے پتنگ اور ڈور کی فروخت یکم فروری سے 8 فروری 2026 تک ممکن ہو گی اور یہ فروخت صرف رجسٹرڈ سیلرز ہی کر سکیں گے۔نوٹیفکیشن میں پتنگ اور ڈور کے سائز اور معیار سے متعلق سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ اس کے مطابق پتنگ کی چوڑائی ساڑھے چار گٹھ یعنی 35 انچ اور لمبائی 30 انچ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، جبکہ گڈے کی چوڑائی ڈیڑھ توا یعنی 40 انچ اور لمبائی 34 انچ تک محدود ہو گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی کیلئے صرف سوتی دھاگے سے بنی ڈور ہی استعمال کی جا سکے گی۔  جس میں نو سے زیادہ تار نہیں ہوں گے اور اس کا کاؤنٹ 28 سے کم نہیں ہو گا۔ دھاگے پر صرف چاول کے آٹے، مسالے اور گلو کا کوٹ کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ ڈور پر شیشہ، دھات یا کسی بھی خطرناک مواد کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق ڈور کو صرف ’پِنے‘ کی شکل میں لپیٹنے کی اجازت ہو گی اور چرخی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نائلون، پلاسٹک کی ڈور یعنی تندی، دھاتی تار اور کیمیکل ڈور یعنی مانجھا لگی ڈور کی خرید و فروخت اور استعمال پر بھی سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت لاہور میں چلنے والی تمام موٹر سائیکلوں کے لیے کائٹ فلائنگ رولز 2025 کے چیپٹر 3 میں درج حفاظتی خصوصیات، بشمول سیفٹی وائر، پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کے پتنگ بازی کرنے پر پہلی مرتبہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دیا جائے گا۔ مشروط اجازت کے باوجود پتنگ بازی کے قوانین کی خلاف ورزی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ بغیر حکومتی اجازت پتنگ اڑانے پر 3 سے 5 سال قید اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تیز دھار مانجھا یا ڈور، جو عموماً کیمیکل یا شیشہ پیس کر تیار کی جاتی ہے، کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی پر کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 7 سال قید کے ساتھ 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ بغیر اجازت یا رجسٹریشن کے پتنگ بازی، اس کی تیاری، فروخت یا نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب میں پتنگ بازی کے سبب جان لیوا واقعات کے بعد حکومت 2001 کے بعد سے اس پر وقتاً فوقتاً پابندیاں عائد کرتی رہی ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل پتنگ بازی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں بسنت کا تہوار باقاعدہ طور پر پہلی بار 2007 میں اس وقت ممنوع قرار دیا گیا جب پتنگ کی ڈور سے سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2018 میں حمزہ شہباز شریف کے  دور اقتدار پتنگ بازی پر سے پابندی مختصر طور پر اٹھائی گئی تھی، لیکن درجنوں اموات کے بعد فوری طور پر دوبارہ پابندی نافذ کر دی گئی تھی۔ تاہم اب مریم نواز حکومت نے نواز شریف کی خواہش پوری کرتے ہوئے ایک بار پھر بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے

Back to top button