پنجاب پولیس سے ہاتھاپائی کی سزا7سال قیدمقررکردی گئی

خطرناک ملزمان کو پولیس مقابلوں میں مارنے اور خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے نیفوں میں پستولیں چلانے والی مریم نواز حکومت نے پولیس اہل کاروں سے ہاتھا پائی کرنے والوں کے لیے سات برس کی قید کی سزا کا قانون پاس کروالیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی پر سات برس تک قید کی سزا کا اطلاق پہلے سے موجود اینٹی رائٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس ترمیم کی منظوری بعد اب اسے جلد پنجاب اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا۔ جس کے بعد یہ ترمیمی شق باقاعدہ قانون کا حصہ بن جائے گی۔ اینٹی رائٹ ایکٹ  میں مجوزہ ترمیم کے بعد  پولیس پر حملہ آور افراد کو سات برس تک کی قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکے گا جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے صورت میں سزا ایک سال تک مزید بڑھا دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے جیسا کہ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 353 کے تحت پولیس اہلکار کو ڈرانے یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر 2 سال قید یا جرمانہ موجود ہے جبکہ سیکشن 332 کے تحت سرکاری ملازم پر حملہ کرنے پر 3 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی ’پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014‘ میں افسران پر حملوں کو دہشت گردی سے جوڑتا ہے۔ جس میں 10 سال قید تک کی سزا دیتا ہے۔ تاہم اب پنجاب حکومت نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بالتخصیص ہاتھا پائی کرنے پر اینٹی رائٹ ایکٹ کے تحت 7سال قید کا قانون منظور کر لیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ترمیم پولیس کی حوصلہ افزائی کرے گی کیونکہ حالیہ برسوں میں ہجوم کی مزاحمت سے کئی اہلکار شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔

تاہم دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے تحفظ کیلئے اب تک بنائے گئے قوانین کبھی بھی مؤثر  ثابت نہیں ہوئے کیونکہ ثبوت کی کمی اور عدالتی تاخیر کی وجہ سے ملزمان اکثر رہا ہو جاتے ہیں۔ تاہم اب اینٹی رائٹ ایکٹ کی یہ ترمیم، پولیس پر حملوں کو ’خصوصی جرم‘ کا درجہ دے رہی ہے  جو پاکستان کی قانونی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہے۔ اس سے پہلے ایسے جرائم پر کارِ سرکار میں مداخلت جیسے قوانین کا سہارا لیا جاتا تھا لیکن اب پولیس سے ہاتھا ہائی الگ سے ’اینٹی رائٹ‘ کے تحت جرم قرار پائے گا جس سے ملزمان کو فوری سزا دینا ممکن ہو پائے گا۔

تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت کو پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے والوں کو سخت سزا بارے قانون پاس کروانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں سیاسی اور مذہبی ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔تاہم ان جرائم میں ملوث عناصر ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے رہا ہو گئے جس کے بعد اب یہ نئی قانون سازی کی گئی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پولیس کو پہلے سے ہی قانون میں بہت تحفظ حاصل ہے، اب اس تحفظ کو اور بڑھا دیا گیا ہے۔ تاہم سزا بڑھانے سے اس کے غلط استعمال کا خدشہ زیادہ ہو گیا ہے۔ حکومت اس وقت جس طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس سے شفافیت پر فرق پڑ رہا ہے پہلے سوشل میڈیا سے متعلق قوانین کو سخت کیا گیا اور اب احتجاج کے مقابلے پولیس کو اور طاقت ور کیا جا رہا ہے۔‘

عمران خان کے قید میں ہونے کی اصل وجہ خود عمران خان

پولیس حکام کے مطابق، پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی جیسے شرپسند عناصر اور دباؤ گروہ اکثر سڑکوں پر آ کر پولیس اہلکاروں پر تشدد کرتے ہیں، اور بعض اوقات ان کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیا قانون دراصل ایسے عناصر کو قابو میں رکھنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ پولیس اہلکاروں سے ہاتھاپائی پر سات سال قید کی سزا حد سے زیادہ سخت ہے، اسی وجہ سے یہ قانون عوامی تنقید کی زد میں ہے۔

 

Back to top button