عامر میر کے خلاف FIA کیسز ختم کرنے کا مطالبہ


امریکی ریاست نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سنیئر صحافی عامر میر اور عمران شفقت کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے درج انتقام پر مبنی ریاست دشمنی کے کیسز ختم کر کے صحافیوں کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
10 اگست کو جاری ایک بیان میں سی پی جے نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سنیئر صحافی عامر میر اور عمران شفقت کے خلاف انتقام پر مبنی کیسز فوری طور پر ختم کئے جائیں اور ملک بھر میں آزاد منسش صحافیوں کے خلاف تا دیبی کاروائیاں اور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ سی پی جے نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سنیئر صحافی عامر میر کی زیر نگرانی چلنے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم گوگلی نیوز ٹی وی ایک یوٹیوب چینل ہے جس کے تین لاکھ 60 ہزار سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ ٹیلنگز ود عمران شفقت بھی ایک یوٹیوب چینل ہے۔ ان دونوں چینلز پر انویسٹی گیٹیو رپورٹنگ، خارجہ پالیسی کے امور اور ملکی سیاسی منظر نامے کے حوالے سے خبریں اور تجزیے پیش کیے جاتے ہیں۔ سی پی جے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سینئر صحافی عامر میر کو کو سات اگست کو صبح ساڑھے دس بجے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے گھر سے دفتر کے لیے روانہ ہوئے تھے تھے۔ عامر میر کو دس گھنٹے حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کرنے کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا کہ کہ ملزم کے خلاف شواہد اکٹھے کرکے جلد عدالت میں چالان پیش کیا جائے گا۔ سی پی جے نے تصدیق کی کہ ایف آئی اے حکام نے عامر میر کے دو موبائل فونز اور انکا لیپ ٹاپ بھی اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور اب ان پر ان کے پاس ورڈز بتانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جس سے وہ انکاری ہیں۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے پروگرام ڈائریکٹر کارلس مارٹینز نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں عامر میر اور عمران شفقت کی ایف آئی اے کے ہاتھوں حالیہ گرفتاری حکومت پاکستان کی ایک بڑی میڈیا دشمن مہم کا حصہ ہے جس میں سچ کی آواز کو دبانے اور آزادانہ صحافت کرنے والے باضمیر صحافیوں کو سبق سکھانے کے لئے آئے روز ہراساں کیا جاتا ہے۔ مارٹینز نے کہا کہ ایف آئی اے دونوں صحافیوں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے اور قبضے میں لیے گئے ان کے فون واپس کرے۔ یاد رہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ عامر میر اور عمران کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت پاک فوج اور عدلیہ سمیت دیگر اہم قومی اداروں بارے تضحیک آمیز مواد نشر کرنے پر مقدمات درج کیے گے ہیں اور ان دونوں کے خلاف تفتیش جاری ہے۔ سائبر کرائم ونگ کی پریس ریلیز کے مطابق ملزمان عامر میر اور عمران شفقت سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت ریاستی اداروں کی ساکھ خراب کرنے اور اعلیٰ شخصیات کو بدنام کرنے جیسے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان الزامات کے نتیجے میں چھ مہینے قید یا زیادہ سے زیادہ پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ضمانت پر رہائی کے بعد عامر میر اور عمران شفقت نے ایف آئی اے کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے بیان کے مطابق ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر بابر بخت نے کہا ہے کہ دونوں ملزمان کے خلاف مزید ثبوت اکٹھے کرکے جلد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ سی پی جے کے مطابق عامر میر نے انہیں بتایا کہ حراست کے بعد ایف آئی اے حکام نے ان سے یہ پوچھا کہ آخر آپ آرمی اور عدلیہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے کیوں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ عامر۔میر کا موقف تھا کہ یہ الزامات غلط ہیں اور ان کی صحافت کا مقصد پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے۔
تاہم تفتیش کے دوران ان سے کسی مخصوص ویڈیو پیکج کے حوالے سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔
سی پی جے کے مطابق عامر میر اور عمران شفقت سے کہا گیا کہ وہ بیان حلفی جمع کروائیں کہ وہ آئندہ حکومتی یا ریاستی شخصیات کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے، تاہم دونوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا صحافتی اقدار کے کے منافی ہوگا اور وہ آئندہ بھی اسی طرح کی صحافت جاری رکھیں گے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ عامر میر نے اپنے خلاف ایف آئی اے میں درج ہونے والی ایف آئی آر کی کاپی حاصل کرلی ہے تاہم عمران شفقت کو تاحال نہیں بتایا گیا کہ ان پر آخر کن الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایف آئی آر میں عامر میر پر لگائے گے الزامات کا جائزہ لیا ہے۔ گوگلی نیوز پر حکومتی معاملات میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار، عدلیہ اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خطے پر اثرات کے حوالے سے ویڈیو پیکجز نظر آتے ہیں۔ سی ہی جے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عامر میر کو جولائی 2020 سے اب تک ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے دو نوٹسز اور ایک سوالنامہ موصول ہو چکا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ آپ پاک فوج، عدلیہ اور وزیراعظم عمران خان پر لگائے جانے والے الزامات کی وضاحت کریں۔ تاہم عامر میر کی جانب سے ان نوٹسز اور سوالنامے کا جواب دیے جانے کے بعد سے مزید کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی۔ عامر میر کے خلاف تازہ ترین کیس ایف آئی اے لاہور نے ایک نامعلوم شخص کی درخواست پر دائر کیا ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق انہوں نے عامر میر اور عمران شفقت کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائیوں پر احتجاج کے سلسلے میں ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کو ای میل بھجوائی ہے جس کا تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم عامر میر کا کہنا ہے کہ وہ ایسے انتقامی ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں اور اپنا صحافتی مشن ایسے ہی جاری رکھیں گے۔

Back to top button