قاف لیگ اپوزیشن سے تعاون کے لیے وزارت اعلیٰ پر اڑ گئی

سپیکر پنجاب اسمبلی اور عمران خان کے اتحادی چوہدری پرویز الہی نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے کم پر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ دودری جانب انہوں نے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ملنے کی صورت میں پنجاب اور مرکز میں ان ہاؤس تبدیلی کی کامیابی کی ضمانت دینے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ یاد رہے کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن پہلے ہی چودھری پرویزالٰہی کا نام پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے نواز شریف کو تجویز کر چکے ہیں تاہم حتمی فیصلہ نواز شریف نے کرنا ہے۔

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان تازہ رابطوں میں چوہدری برادران نے سابق صدر آصف زرداری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس کے مطابق (ق) لیگ نے اپوزیشن سے تعاون کے بدلے میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مانگی ہے۔ تعلیم پنجاب اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہونے کے ناطے مسلم لیگ کی قیادت یہ مطالبہ ماننے پر آمادہ نظر نہیں آتی لیکن صلاح مشورے جاری ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ شہباز شریف بھی ایک اعلیٰ سطحی نون لیگی وفد کے ہمراہ لاہور میں گجرات کے چوہدریوں سے ان کے گھر پر ملاقات کر چکے ہیں۔ تاہم پرویز الہی کا موقف ہے کہ انہیں اپوزیشن کے ساتھ تعاون کی صورت میں کوئی بڑا سیاسی فائدہ ملنا چاہیے تا کہ وہ عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ دے سکیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر اپوزیشن نے پرویز الہی کو وزارت اعلی کے لئے نامزد کر دیا تو وہ یہی آفر عمران خان سے لے کر عثمان بزدار کی جگہ وزیر اعلی بن سکتے ہیں جس سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو سخت نقصان پہنچے گا۔ مسلم لیگ ن کے اس خدسے کو دور کرنے کے لئے آصف علی زرداری گارنٹی دینے کو تیار ہیں تاہم جب تک نواز شریف کوئی فیصلہ نہیں کرتے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

یوکرائن میں‌ پھنسے پاکستانی طلبا کی واپسی کیلئے پروازوں کا حکم

ذرائع کے مطابق وزارتِ اعلیٰ ملنے کی صورت میں (ق) لیگ نے آصف علی زرداری کے ذریعے نواز لیگ کو پنجاب اور مرکز میں ان ہاؤس تبدیلی کی کامیابی کی ضمانت دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔قاف لیگ کا کہنا ہےکہ انکے لوگ مرکز میں مکمل طور پر اپوزیشن کی حمایت کریں گے تاہم انہوں نے تبدیلی۔کی صورت میں فوری نئے انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ہو تو قومی اسمبلی کے انتخابات کروادیے جائیں لیکن صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونی چاہیے۔

ذرائع کا بتانا ہےکہ آصف زرداری نے (ق) لیگ کی شرائط سے (ن) لیگ کو آگاہ کر دیا ہے جس کے بعد لیگی قیادت نے مشاورت شروع کردی ہے۔ واضح رہےکہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جوڑ توڑ جاری ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران سیاست کے تین بڑے کھلاڑی شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں جب کہ ان کی جانب سے حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔

اسی دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی شہباز شریف اور آصف علی زرداری سے ملاقاتوں سے سے پریشان ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ گجرات کے چوہدریوں کو قابو کرنے کی کوشش کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسد قیصر نے ملاقات کے لیے چودھری پرویزالٰہی سے بار بار رابطے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہو پایا جس کے بعد انہوں نے مونس الہی سے فون پر رابطہ کیا۔

دونون کی آپس میں کیا بات ہوئی اس پر مونس الہیٰ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے مختلف بیانات دیے جارہے ہیں۔ مونس الٰہی کہتے ہیں انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ انکی اپوزیشن سے سیاسی بات چيت اور مشاورت جاری ہے جسکا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ کر لیا گيا ہے، وہ اپنے وعدوں کے پابند ہیں اور انکا مکمل احترام کریں گے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گيا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں مونس الٰہی نے اسد قیصر کو یقین دلایا کہ وہ حکومت کے۔پکے اتحادی ہیں اور وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں، اسد قیصر کی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہقاف لیگ کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بارے اپوزیشن سے تعاون کی یقین دہانی کا غلط تاثر دیا جا رہا ہے، مونس الہی کا موقف کچھ یوں بیان کیا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں سے مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کی ملاقاتیں سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے پر نواز لیگی قیادت راضی ہو جاتی ہے تو سب سے پہلے پنجاب میں تبدیلی لائی جائے گی جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کو فارغ کیا جائے گا اور پھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

Back to top button