قاف لیگ کو اپوزیشن کا ساتھ دینے کی ڈیڈ لائن مل گئی

اپوزیشن کی جانب سے قاف لیگ کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اسکے مطلوبہ نمبرز پورے ہو چکے ہیں لہذا اگر قاف لیگ نے اگلے 72 گھنٹے میں فیصلہ نہ کیا تو اپوزیشن پہلے پنجاب میں تبدیلی لانے کی بجائے مرکز پر حملہ آور ہو جائے گی۔
حزب اختلاف کی جانب سے قاف لیگ کی قیادت کو آگاہ کیا گیا یے کہ ایسی صورتحال میں قاف لیگ کو جلد فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہونا چاہتی ہے یا حزب اختلاف کے ساتھ چلنا چاہتی ہے کیونکہ اسکے بغیر مرکزی حکومت الٹ گئی تو پھر چوہدریوں کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا چانس بھی ختم ہو جائے گا۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات کے چودھری حزب اختلاف سے وزارت اعلیٰ کی آفر ملنے کے بعد امید کر رہے تھے کہ انہیں یہی پیشکش وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی ہو گی لیکن خان صاحب نے انکی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم چوہدریوں کے گھر گے تو انکے ساتھ عثمان بزدار بھی موجود تھے جس کا مقصد پرویز الہی کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔
چودھریوں کی امیدوں کے برعکس وزیراعظم نے نہ تو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی بات کی اور نہ ہی پنجاب کی وزارت داخلہ پر کوئی گفتگو ہوئی۔ اپوزیشن ذرائع کہتے ہیں کہ چوہدریوں نے عمران خان سے ملاقات کے بعد طارق بشیر چیمہ کے ذریعے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے مایوس ہو گے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن بھی چودھریوں سے بدظن ہوچکی ہے اور اپنی وزارت اعلیٰ کی آفر باقاعدہ طور پر واپس لینے کا سوچ رہی ہے۔ حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر چوہدریوں نے کوئی فیصلہ کرنا ہے تو ان کے پاس صرف 72 گھنٹے کا ٹائم ہے ورنہ اپوزیشن جماعتیں پہلے پنجاب میں تبدیلی لانے کی بجائے مرکز پر حملہ آور ہو جائیں گی چونکہ ان کی قومی اسمبلی میں نمبرز گیم پوری ہو چکی ہے۔
ایسے میں چوہدری برادران گیم سے آؤٹ ہو جائیں گے اور بارگیننگ پوزیشن میں بھی نہیں رہیں گے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ اگلے چند روز میں کوئی بڑا فیصلہ کر لیں۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کو اہنی تحریک کی کامیابی کے لیے مطلوبہ 172 ارکان قومی اسمبلی سے ذیادہ کی حمایت حاصل ہوچکی ہے لیکن وہ اب بھی دو حکومتی اتحادیوں قاف۔لیگ اور ایم کیو ایم کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ تحریک کی کامیابی کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعظم اور ان کے رفقاءنے بھی اتحادی جماعتوں اور ناراض اراکین سے رابطے کرکے اپوزیشن کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی پر کام شروع کردیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعتوں اور ناراض اراکین کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں حکومت سازی اورآئندہ کے لائحہ عمل پر کچھ تحفظات ہیں جنہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا یے کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد نئے الیکشن، پاور شیئرنگ، اور نئی حکومت کی معیاد پر تینوں بڑی اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آصف زرداری اور مولانا کی جانب سے چودھری برادران کو وزارت اعلی کی پیشکش پر بھی مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات ہیں، تاہم 2 مارچ کو مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ اب اپوزیشن جماعتوں کے مابین تمام ایشوز پر اختلافات حل کرلیں گے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں صرف عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کا فیصلہ ہوا ہے جبکہ باقی معاملات تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد طے کیے جائیں گے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پیپلزپارٹی بھی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئے الیکشن کے لیے ذہن بنا چکی ہے جس کا اظہار بلاول نے عمران خان کو اسمبلی توڑنے کی دعوت دے کر کیا ہے۔
یاد رہے کہ اپوزیشن کو وزیراعظم یا سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کم ازکم 172 اراکین قومی اسمبلی درکار ہیں، اس وقت قومی اسمبلی کے 342 اراکین کے ایوان میں ہنگو سے پی ٹی آئی کے رکن کے انتقال سے ایک سیٹ خالی ہے۔
341 کے ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، ایم ایم اے کے 15 اراکین ہیں جبکہ بی این پی اختر مینگل کے 4، اے این پی کا ایک اور دو آزاد اراکین بھی اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ اس طرح اپوزیشن کے مجموعی ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 162 ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف ہے جس کے پاس 156 سیٹیں ہیں متحدہ قومی موومنٹ کے 7، (ق) لیگ کے 5، جی ڈی اے کے 3، عوامی مسلم لیگ کا ایک، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک رکن سمیت دو آزاد امیدوار اسلم بھوتانی اور میر علی نواز شاہ کی بھی حکمران جماعت کو حمایت حاصل ہے۔
یعنی حکومت کو 179 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن کے بعض 162 اراکین ہیں۔ لیکن اگر اپوزیشن کے دعوے کے مطابق پی ٹی آئی کے 20 ممبران قومی اسمبلی اپوزیشن کے ساتھ مل جاتے ہیں تو پھر حزب اختلاف کو 182 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہو جائے گی جبکہ عمران خان کے ساتھ 159 اسمبلی اراکین رہ جائیں گے۔
Qaf League gets deadline to support opposition Video
ایسے میں اگر قاف لیگ اور ایم کیو ایم بھی کپتان کا ساتھ چھوڑ دیں تو 12 اراکین مذید کم ہو جائیں گے۔ اس صورت میں عمران خان کے پاس 149 ووٹ باقی بچیں گے جبکہ اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد مذید بڑھ کر 194 ہو جائے گی جس کا صاف مطلب عمران خان کی وزارت عظمی سے چھٹی ہو گا۔
