قاسم اور سلیمان کے ترلے: ٹرمپ عمران کے سفارشی بننے سے انکاری

عمران خان کے بیٹوں نے بھی اپنے باپ کی طرح رہائی کی امیدوں کا مرکز صدر ٹرمپ کو بنا رکھا ہے حالانکہ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے۔ صدر ٹرمپ موجودہ حالات میں کسی بھی صورت فرد واحد کیلئے ریاست پاکستان سے پنگا لینے کے موڈ میں نظر نہیں آتے اسی لئے قاسم اور سلیمان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی نہیں ہو پائی تاہم اس کے باوجود عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی طرح ترلہ پروگرام جاری رکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے عمران خان کی رہائی کیلئے عملی کردار ادا کرنے کی اپیل کر دی ہے۔  بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قانونی طریقوں سے انصاف کا حصول ناممکن ہو چکا ہے اب وہ عمران خان کی رہائی کے لیے صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، اب ہماری نظریں صرف صدر ٹرمپ اور امریکا پر ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ ہی وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو ان کے والد کو رہائی دلوا سکتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق قاسم خان کے حالیہ انٹرویو سے لگتا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں نے بھی شاید وہی راستہ چن لیا ہے جو ان کے والد سیاست میں چنتے رہے ہیں یعنی اس در سے امید باندھنا اور اُن دروازوں پر دروازوں پر دستک دینا جہاں نہ صرف تالا لگ چکا ہے بلکہ ان دروازوں کی چوکھٹیں بھی بدلی جا چکی ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے مداخلت سے صاف انکار کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کا باد بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیلیں کرنا ان کی سیاسی لاعلمی بلکہ عملی حقیقت سے فرار کی واضح مثال ہے۔ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر سیاست کرنا صرف بھرم ہوتا ہے، اور یہی بھرم اب عمران خان کے بیٹوں کی سرگرمیوں سے بھی ٹپک رہا ہے۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں قاسم خان کا  یہ کہنا کہ "اگر کوئی فرق ڈال سکتا ہے، تو وہ ٹرمپ ہیں” موجودہ عالمی سیاست اور امریکی ترجیحات کے بارے میں ان کی ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ قاسم خان کو سمجھنا چاہیے کہ عالمی تعلقات جذبات کی بجائے باہمی مفادات پر چلتے ہیں اور موجودہ عالمی حالات اور خطے کی صورتحال کے مطابق کبھی بھی ٹرمپ انتظامیہ عمران خان کی رہائی بارے مطالبہ کر کے پاکستانی حکومت یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے گی۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کی حالیہ سرگرمیاں، ایک بے سمت، غیر واضح اور سیاسی طور پر غیر سنجیدہ مہم کی عکاس ہیں۔ جس طرح عمران خان کبھی "نیوٹرلز” اور کبھی عالمی قوتوں سے انصاف مانگتے رہے ہیں، ویسے ہی ان کے بیٹے بھی زمینی سیاست سے زیادہ بین الاقوامی ہمدردی پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق  سیاسی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عدالتی و قانونی نظام میں بیرونی بیانات کی گونج مختصر اور غیر مؤثر ہوتی ہے۔ قاسم اور سلیمان کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ عمران خان کی رہائی کا راستہ اب وائٹ ہاؤس نہیں بلکہ اسلام آباداور راولپنڈی سے ہی ہو کر گزرے گا۔

تاہم عمران خان کے بیٹے مسلسل امریکی صدر ٹرمپ کی چاپلوسی کرتے ہوئے انھیں اپنی امیدوں کو ملجا و ماویٰ بناتے نظر آتے ہیں اپنے حالیہ انٹرویو میں قاسم خان کا امریکی صدر ٹرمپ سے عمران خان کی رہائی کے عمل میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  ہم جانتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہمارے والد کے درمیان اچھے تعلقات تھے، جب دونوں عہدے پر تھے تو ان کی بات چیت زبردست ہوتی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ کوئی بیان دیں یا کسی بھی طریقے سے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کریں تو ہمارے والد کو رہا کر دیا جائے گا، صدر ٹرمپ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو واقعی فرق ڈال سکتے ہیں، اس لیے ہم یقیناً اُن سے بات کرنا چاہیں گے یا ان سے مدد یا حمایت کی امید رکھتے ہیں۔ اس موقع پر سلیمان خان نے کہا کہ انہیں اپنے والد سے آخری بار ملاقات کیے 3 سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور 4 ماہ سے ان کی عمران خان سے کوئی بات نہیں ہوئی، قاسم خان نے اس صورتحال کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا کیونکہ وہ پہلے اپنے والد سے باقاعدگی سے بات کرتے تھے۔قاسم خان نے کہا کہ وہ اور سلیمان عام طور پر عوامی سطح پر بات نہیں کرتے لیکن اب وہ اتنے عرصے سے اپنے والد سے رابطے میں نہ رہنے کی وجہ سے مایوس ہو چکے ہیں۔

نہ پاکستانی شناخت نہ پاسپورٹ ،عمران کے بچے برطانوی شہری نکلے

قاسم خان نے مزید بتایا کہ جب ہم نے پاکستان جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو پاکستانی حکومت کے کچھ لوگوں نے ہمیں کہا کہ ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا، ہمیں خاندان کے افراد، اندرونی ذرائع اور مختلف افراد کی طرف سے اسی طرح کی وارننگز ملی ہیں۔اس کے باوجود ہم ویزا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے ویزا کے لیے درخواست دی ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔سلیمان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر وہ پاکستان نہ بھی جا سکیں تو وہ بیرونِ ملک سے اپنے والد کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ ہم 100 فیصد  پاکستان ضرور جائیں گے، چاہے کسی کو اچھا لگے یا نہ لگے۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کے بیٹے اپنے بیانات اور انٹرویوز سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ  وہ کسی بڑی عالمی تحریک کے قائد بننے والے ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل برعکس ہے ان کی کوششیں محض علامتی اور نمائشی ہیں، جن کا زمینی اثر صفر ہے۔ ان کی ایسی کوششوں سے نہ تو پاکستانی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ پر کوئی دباؤ پڑے گا اور نہ ہی ایسی حکمت عملی سے عمران خان کی جیل سے رہائی ممکن ہے۔

Back to top button