چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازعہ مذاکرات سےحل کرنے پر اتفاق

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں آج اسلام آباد میں اہم بیٹھک ہوئی جس میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی، فریقین نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزرائے خارجہ کا استقبال کیا، اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیر خارجہ خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے نور خان ائیر بیس پہنچے۔
بعدازاں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں مشرق وسطی میں جنگ بندی اور قیام امن کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، فریقین نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔
مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ختم ہوگیا اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میں دی گئی تجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا۔
قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں جمہوریہ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر اہم مشاورت کی۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور مضبوط تعلقات کو اجاگر کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے روابط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، انہوں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
پاک ترک وزرائے خارجہ نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا، دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فریقین نے ایران کی موجودہ صورتحال سمیت دیگر اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور مسلسل سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، قریبی رابطے برقرار رکھنے اور دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
