کوئٹہ دہشتگردی،ایف سی کواختیارات دینےجارہےہیں،محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی کہنا تھا کہ یہ کوئی عام حالات نہیں ہیں کہ چوری یا ڈکیتی ہے،صرف پولیس کوبہترین سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں،اب ہم ایف سی کوبھی اختیارات دینےجارہےہیں تاکہ وہ بھی لڑسکیں۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کاوزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی کےہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتےہوئےکہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتےمیں4،5خودکش حملہ آوروں کوپکڑا ہے، جن کاان دنوں میں پھٹنے کا منصوبہ تھا،اس وقت سارےمل کرلڑرہےہیں، یہ پوری جنگ کی صورتحال ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےکہا کہ بغیر واقعے کی بھی میں نےکوئٹہ، تربت اور گوادر میں کئی بار چکر لگایا ہے،میرا چندمہینےمیں یہ10واں دورہ ہے،وفاقی حکومت ہر طریقے سےحکومت بلوچستان کو سپورٹ کررہی ہے۔

روسی صدر کی کوئٹہ دھماکے کی مذمت،مکمل تعاون کی پیشکش بھی کردی

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہم نےدہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرناہے، نہ صرف وفاق بلکہ پاکستان کےعوام نےمل کرکرنا ہے، ٹھیک ہےدہشت گردی کی لہر آئی ہے، ہم انشا اللہ اس کوختم کر کےدکھائیں گے۔

سرفرازبگٹی کی پریس کانفرنس

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نےکہا کہ جو لوگ ہیومن رائٹس کےچیمپئن بنتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، وہ آج کدھر ہیں، وہ آج کیوں اس واقعے کی مذمت نہیں کرتے؟مذمت تو چھوٹا لفظ ہے، ان کو حکومت سےمطالبہ کرنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کوکیفکردار تک پہنچائیں۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ عام بلوچ یہ سوچ لےکہ آپ کی حکومت آپ کو بہتری کی طرف لےکرجا رہی ہے، تعلیم،صحت کی سہولیات بہترکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اوریہ کون لوگ ہیں جو ہمارےبلوچ نوجوانوں کوخودکش بناتے ہیں؟

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خودکش بنانےوالےعوامل آپ کو بلوچستان کی سڑکوں پر بھی نظرآتےہیں کہ جہاں پر خودکش حملہ کرتے ہیں اور وہ یہاں پراپنی سیاست اس طریقے سے کر رہے ہیں۔

دہشت گردوں کی کوئی قوم نہیں،وزیراعلیٰ

سرفراز بگٹی کا کہناتھا کہ دہشت گردوں کی کوئی قوم نہیں ہے۔دہشت گردوں اور پاکستانی فوج کے درمیان نہیں ہے۔یہ لڑائی پورےمعاشرےکولڑنی ہے۔یہ میڈیا، عدالت، سیاستدان، دانشوروں کو لڑنی ہے۔یہ سوچ بچارکرناپڑےگا کہ بلوچستان میں خون کابازار کب تک گرم رہےگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نےکہا کہ کیوں میڈیا چینلزاس کنفیوژن کا شکار ہیں کہ مذہب کے نام پر تشدد ہےتواس کوسب دہشتگرد ہیں اورنام نہاد قومی پرستی کے نام پر جو دہشت گردی ہے اس کو آج تک ناراض بلوچ کہہ کرکنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتےہیں۔ دہشت گرد کو بطور دہشت گرد دیکھنا چاہیے اور اس میں ہمیں آپ کی، لوگوں کی، تمام سوسائٹی کی سپورٹ چاہیے۔

واضح رہے کہ آج صبح بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن میں خودکش دھماکے کےنتیجےمیں خاتون سمیت 26 افراد جاں بحق اور 62 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ دھماکاجعفر ایکسپریس کے گزرنےکےوقت ریلوےاسٹیشن کے اندر پلیٹ فارم میں ہوا۔

دھماکےکےوقت مسافرریلوے اسٹیشن میں جعفر ایکسپریس سےپشاورجانے کی تیاری میں مصروف تھے۔ریلوےحکام نےکہا تھا کہ ریلوےاسٹیشن پرٹکٹ گھر کے قریب ہوا جبکہ ٹرین اب تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی۔

کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات نےریلوے اسٹیشن پردھماکےکےخودکش ہونے کی تصدیق کرتےہوئےآگاہ کیا تھا کہ دھماک میں قانون نافذ کرنےوالےاداروں اور شہریوں کونشانہ بنایا گیا۔

Back to top button