ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد کوئٹہ کے بازاروں کی رونقیں بحال

عالمی منڈیوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے مثبت اثرات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی مقامی مارکیٹوں میں بھی نمایاں طور پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں جہاں کوئٹہ کے بازاروں کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، وہیں کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ خریدوفروخت کے رجحان میں بھی بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والی سرحدی تجارت کی بحالی کے بعد کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ابتدائی طور پر قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ پاک-ایران سپلائی چین بتدریج بحال ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں جیسے جیسے ایران سے اشیاء کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آئے گی، ویسے ویسے نہ صرف قیمتوں میں مزید کمی آئے گی بلکہ مارکیٹ میں استحکام بھی پیدا ہوگا، جس سے صارفین اور تاجروں دونوں کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ نے پاک ایران سرحدی تجارت کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ایران سے آنے والی اشیائے ضروریہ کی فراہمی تقریباً معطل ہو کر رہ گئی تھی۔ اس دوران کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی مصنوعات کی شدید قلت دیکھنے میں آئی، جس کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایرانی تجارت سے وابستہ تاجروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے سپلائی چین میں تعطل آنے کے بعد ایرانی مصنوعات کی پاکستان آمد تقریبا ختم ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اشیا کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو گیا تھا۔ خاص طور پر ایرانی قالین، کمبل، تعمیراتی سامان اور دیگر گھریلو اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھوتی نظر آئیں۔ جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی تاجروں کے بقول پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت کا ایک بڑا حصہ خشک مصالحہ جات اور زرعی اجناس پر مشتمل ہوتاہے۔ہر سال ایران سے بڑی مقدار میں مصالحہ جات درآمد کیے جاتے ہیں جبکہ پاکستان سے چاول ایران بھیجا جاتا ہے تاہم کشیدگی کے دوران دونوں ممالک میں باہمی تجارت تقریباً بند ہوگئی تھی، جس کی وجہ سےکئی مصالحہ جات کی قیمتوں میں فی بوری پانچ ہزار روپے تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
تاجروں کا مزید کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد صورتحال بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے، جس کے اثرات سرحدی علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حالات اسی طرح مستحکم رہے تو آئندہ ایک ہفتے کے دوران سرحدی تجارت مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہو جائے گی، جس سے سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی ختم ہونے لگیں گی۔تاجروں نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران سے اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی ترسیل جیسے ہی معمول پر آئے گی، مارکیٹ میں موجود قلت تیزی سے ختم ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف اشیاء کی دستیابی بہتر ہوگی بلکہ قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی، جس سے عام صارفین کو براہ راست ریلیف ملے گا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سرحدی تجارت کی مکمل بحالی مقامی معیشت کے لیے انتہائی خوش آئند ثابت ہوگی۔ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ زور پکڑیں گی، مارکیٹوں میں رونق واپس آئے گی اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے مثبت اثرات نہ صرف تاجروں بلکہ عام شہریوں تک بھی پہنچیں گے، جس سے مقامی آبادی کو معاشی دباؤ سے نکلنے میں مدد ملے گی اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
پاکستان کی ثالثی:سابق امریکی سفارت کار نے بھارتی اینکر کی بولتی بند کر دی
ماہرین کے مطابق اگر یہ بہتری برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں بلوچستان میں نہ صرف اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم ہونگی گی بلکہ خطے میں تجارتی روابط بھی مزید مضبوط ہوں گے جبکہ ایران اور امریکہ میں جنگ بندی طویل المدتی اقتصادی استحکام کے لیے نہایت اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
