ریڈیو حملہ کیس:KPK پولیس کی نامزدگی کے بعد سہیل آفریدی مشکل میں

 

 

 

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کرسی ایک بار پھر ڈولنے لگی۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے ریڈیو پاکستان پشاور پر مئی 2023 کے حملے کے کیس میں موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پی ٹی آئی قیادت بلکہ خود وزیراعلیٰ کے لیے بھی غیر متوقع اور پریشان کن ثابت ہوا ہے۔ فرانزک اور نادرا رپورٹس کی بنیاد پر وزیراعلیٰ سمیت پانچ افراد کی نامزدگی نے کیس کی حساسیت اور اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، اور قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ اس پیشرفت سے سہیل آفریدی کی کرسی کو کتنا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد ریڈیو پاکستان حملہ کیس صرف انسدادِ دہشتگردی کا معاملہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے لیے ایک سنگین سیاسی اور قانونی امتحان بھی بن گیا ہے۔

خیال رہے کہ مئی 2023 کے ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے اور توڑ پھوڑ کیس میں ایک اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا پولیس نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز انسدادِ دہشتگردی عدالت نمبر 111 کے سامنے ریڈیو پاکستان حملہ و توڑ پھوڑ کیس کی سماعت ہوئی جس میں کیس کے تفتیشی افسر بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے فرانزک اور نادرا کی رپورٹ کی بنیاد پر 5 مزید افراد کو اس کیس میں نامزد کیا ہے۔ جن میں خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزیر تیمور جھگڑا، کامران بنگش، صوبائی رہنما عرفان سلیم اور ایک پارٹی رکن شامل ہیں۔ تاہم تفتیشی افسر کی جانب سے نامزدگی کے باوجود استغاثہ نے اب تک اس واقعے کے جاری مقدمے میں سہیل آفریدی سمیت دیگر 5 ملزمان کو نامزد کرنے کے لیے انسدادِ دہشتگردی عدالت میں چالان جمع نہیں کروایا۔ جس کے لیے عدالت نے 17 مارچ تک رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، ایم پی اے فضل الٰہی، ایم این اے آصف خان سمیت پی ٹی آئی کے اور بھی کئی رہنما نامزد ہیں اور ضمانت پر ہیں۔جبکہ پولیس نے حملہ کیس کی سامنے آنے والی ویڈیوز کی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا سے تصدیق کروائی تھی جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، کامران بنگش سمیت 5 افراد کی جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔ جس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت دیگر 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کو اس کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کیس میں حالیہ پیشرفت اور پولیس کی جانب سے نامزدگی کے فیصلے نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق، ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی ویڈیوز کے فرانزک میں ملزمان کی موجودگی کی تصدیق نے کیس کو مزید مضبوط بنادیا ہے اور اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو عدالت کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت دیگر ملزمان کو قید کی سزا ہو سکتی ہے، اور سزا کی صورت میں وہ کسی بھی عہدے کے لیے نااہل ہو جائیں گے۔ تاہم پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے فرانزک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ویڈیوز میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ وہ ریڈیو پاکستان کی ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ پولیس کی جانب سے وزیراعلیٰ کی نامزدگی نے پارٹی کے لیے کیس کو خطرناک اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی ٹیم اور سہیل آفریدی کی ذاتی وکلا ٹیم اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کے لیے کیس میں پیشرفت اور وزیراعلیٰ کی نامزدگی حیران کن اور پریشان کن ہے۔ ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ خیبرپختونخوا پولیس اپنے ہی وزیراعلیٰ کو ملزم قرار دے گی اور کیس میں نامزد کردے گی، لیکن ایسا ہو گیا۔

 

سیاسی حلقے اور عوامی مبصرین اس کیس کو نہ صرف ایک قانونی معاملہ بلکہ پارٹی کی طاقت اور مستقبل کی سیاست کے لیے ایک سنگین امتحان قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پیشرفت کے بعد سہیل آفریدی کی مدت اور کرسی دونوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اس کیس نے نہ صرف سیاسی ہلچل پیدا کی ہے بلکہ پی ٹی آئی کے داخلی اور خارجی چیلنجز بھی بڑھا دئیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ کی نامزدگی سے لگ رہا ہے کہ طاقتور حلقے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس پیشرفت سے سہیل آفریدی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق ریڈیو پاکستان حملہ کیس ایک انتہائی حساس نوعیت کا کیس ہے۔ فرانزک اور نادرا رپورٹس کے بعد کیس کی حساسیت اور پیچیدگی بڑھ گئی ہے، اور اگر پولیس سہیل آفریدی کو باقاعدہ طور پر کیس میں نامزد کر دیتی ہے تو ان کے لیے مستقبل قریب میں سیاسی اور قانونی خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ عدالت شواہد کی بنیاد پر انھیں سزا دینے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ کیلئے کسی عوامی عہدے کیلئے نااہل بھی قرار دی سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کیس میں انسدادِ دہشتگردی، توڑ پھوڑ، سرکاری عمارت پر حملہ سمیت دیگر دفعات لگائی گئی ہیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو لمبی قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی کیس میں پہلے ویڈیوز کی اہمیت کم سمجھی جاتی تھی، لیکن اب ویڈیو شواہد کو اہمیت دی جاتی ہے، جیسا کہ نور مقدم کیس میں ہوا۔ تجزیہ کار اور صحافیوں کا ماننا ہے کہ ریڈیو پاکستان کیس اب صرف ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی امتحان بھی بن چکا ہے، جس سے نہ صرف وزیراعلیٰ بلکہ پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا اس پیشرفت سے سہیل آفریدی کی کرسی ڈول جائے گی یا وہ اس بحران سے نکل سکیں گے۔

عمران خان چھوٹی کے علاوہ بڑی عید بھی جیل میں ہی گزاریں گے

مبصرین کے بقول ریڈیو پاکستان پشاور پر حملہ کیس میں سہیل آفریدی کی نامزدگی نے ملکی سیاست اور قانونی منظرنامے میں ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ فرانزک اور نادرا رپورٹس نے کیس کی حساسیت بڑھا دی ہے، اور قانونی اور سیاسی حلقے اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعتیں اس بات کی وضاحت کریں گی کہ وزیراعلیٰ کے خلاف کارروائی کا سیاسی اور قانونی اثر کیا ہوگا۔ مبصرین کے مطابق ریڈیو پاکستان کیس اہم اور سنجیدہ نوعیت کا کیس ہے جو اب تک سست روی کا شکار تھا، لیکن اب ریڈیو پاکستان نے پرائیویٹ وکیل کر کے اس میں تیزی لے آئی ہے۔جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ سہیل آفریدی کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے آنے والے وقت میں ان کی مشکلات مزید بڑھیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگلی سماعت پر صورتحال مزید واضح ہو گی کہ پولیس رپورٹ میں وزیراعلیٰ کا نام شامل ہے یا نکال دیا گیا۔ تاہم اگر سہیل آفریدی کے نام کو رپورٹ سے نہ نکالا گیا اور ان کی نامزدگی برقرار رہی تو کیس کی سماعت تیز ہو گی اور وزیراعلیٰ جلد اقتدار کے ایوانوں سے جیل کے مہمان بن جائیں گے۔

 

Back to top button