عمرانڈو ججز منصور شاہ اور اطہر من اللہ پر نوٹوں کی بارش

 

 

عمران خان کی الفت میں استعفے دینے والے سپریم کورٹ کے دونوں عمران دار ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کی امیدوں کے عین مطابق ان پر نوٹوں کی بارش ہو گئی ہے۔ دونوں ججز نہ صرف اپنی فراغت کے باوجود سرکاری رہائش گاہیں اور دیگر تمام سرکاری سہولیات استعمال کر رہے ہیں بلکہ انہیں استعفے دیتے ہی کروڑوں روپے بھی وصول ہو گئے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استعفے کے فوری بعد واجبات کے لیے اپلائی کر دیا تھا چنانچہ انہیں یکمشت پینشن کی مد میں 16 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل ہو گے ہیں۔ اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے بھی سرکار سے واجبات مانگ لیے تھے چنانچہ انہیں بھی 15 کروڑ 40 لاکھ روپے یکمشت پنشن حاصل کی ہے، دونوں عمرانڈو ججز کو یکمشت پینشن کے علاوہ ماہانہ پینشن بھی مل رہی ہے۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق ماہانہ پنشن کے طور پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو بالترتیب 12 لاکھ روپے اور 11 لاکھ روپے سے زائد رقم مل رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ججز کی درخواست پر وزارت قانون نے انکا ماہانہ ہاؤس رینٹ ساڑھے 3 لاکھ طے کر دیا تھا لیکن دونوں ججز حضرات ابھی تک سرکاری رہائش گاہیں استعمال کر رہے ہیں، اس کے علاوہ منصور شاہ اور اطہر من اللہ سپیرئیر جوڈیشل الاؤنس کی مد میں 11، 11 لاکھ روپے علیحدہ بھی وصول کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے 16 سال اور جسٹس اطہر نے 11 سال ملازمت کی۔ جج بننے سے پہلے یہ دونوں حضرات ایک ہی لا فرم میں پارٹنر تھے لہذا دونوں کا عمرانڈو کنکشن قدرتی تھا۔ ذرائع کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دونوں کو اپنی بیگمات اور خاندان سمیت میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات حاصل ہیں۔

وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ کی ماہانہ پنشن کی مد میں انہیں ڈرائیور کی تنخواہ کے کھاتے میں بھی 92 ہزار روپیہ ماہانہ دیے جا رہے ہیں، ان کی خصوصی اضافی پنشن 85 ہزار روپے ماہانہ ہے، جبکہ میڈیکل الاؤنس 56 ہزار روپے ماہانہ ہے۔دوسری جانب جسٹس منصور علی شاہ کی مجموعی ماہانہ پنشن میں ڈرائیور یہ تنخواہ 92 ہزار روپے ہے جبکہ ان کا میڈیکل الاؤنس 56 ہزار روپے ہے۔

اس کے علاوہ “سپریم کورٹ ججز آرڈر 1997ء” کے تحت دونوں سابق جج صاحبان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اضافی مراعات دی گئی ہیں، جن میں میڈیکل، رہائش کی سہولت، مکمل سٹاف، یوٹیلٹی بلز کی حد، سرکاری گاڑی و ایندھن، سکیورٹی و استثنیٰ، پرچم پروٹوکول اور بیگمات کے لیے مراعات شامل ہیں۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔وزارتِ قانون و انصاف کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے ججوں کا ہاؤس رینٹ 68,000 روپے سے بڑھا کر ساڑھے تین لاکھ روپے کر دیا گیا تھا، جبکہ سپریم کورٹ ججوں کا سپیریئر جوڈیشل الاؤنس سوا چار لاکھ روپے سے بڑھا کر پونے 12 لاکھ روپے کر دیا گیا تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مجموعی طور پر 16 سال، ایک مہینہ اور 26 دن بطور جج خدمات انجام دیں، جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال، چار مہینے اور 24 دن ملازمت کی۔نومبر 2025 میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجاً سپریم کورٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دونوں ججوں کا مؤقف تھا کہ اس ترمیم نے عملی طور پر سپریم کورٹ کے اختیارات کو ’کمزور‘ کر دیا ہے۔موجودہ حکومت نے دونوں ججوں کے استعفوں کو اصولی مؤقف کے بجائے سیاسی ردعمل قرار دیا تھا۔ خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ نے دونوں ججز کو عمرانڈو ججز قرار دیا تھا۔ صدر آصف زرداری نے 14نومبر 2025 کو باضابطہ طور پر ان کے استعفے منظور کیے تھے۔

Back to top button