تنازعات کا شکار رجب بٹ کو عدالت میں پھینٹی کس نے لگائی ؟

گزشتہ کچھ عرصے سے مشکلات کا شکار معروف یوٹیوبر رجب بٹ ایک اور تنازعے کی زد میں آ گئے۔ اب تازہ پیشرفت کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں تشدد کا نشانہ بننے والے رجب بٹ اور کراچی بار آمنے سامنے آ گئے ہیں جہاں ایک طرف رجب بٹ کے حمایتیوں نے حملے میں ملوث 20سے زائد وکلاء پر مقدمہ درج کروا دیا ہے وہیں دوسری جانب کراچی بار نے رجب بٹ کے خلاف وکلاء کی توہین کرنے پر اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی ہے جبکہ مقدمہ درج نہ کرنے کیخلاف کراچی بار ایسوسی ایشن نے آج سٹی کورٹ میں مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا ہے ۔
واضح رہے کہ پیر کو یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب کراچی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف اسلامی شعائر کی مبینہ توہین کے مقدمے کی سماعت ہونی تھی۔ تاہم یہ واقعہ پیش آنے کے بعد عدالت نے رجب بٹ کی درخواست ضمانت پر کارروائی بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کرتے ہوئے اُن کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی تھی اور اس درخواست پر مزید کارروائی 13 جنوری تک مؤخر کر دی تھی۔
خیال رہے کہ یاد رہے کہ رجب بٹ پر کراچی کی مقامی عدالت میں تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند وکلا نے رجب بٹ کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے۔ ویڈیو میں ایک وکیل یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ رجب بٹ نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ وکلا برساتی مینڈکوں کی طرح نکل آتے ہیں اِن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ویڈیو میں موجود شخص مزید کہتا ہے کہ رجب بٹ خود کو بڑا شیر اور بہادر سمجھ رہا تھا لیکن آج اسے پتا لگ گیا ہوگا۔ رجب بٹ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ پنجاب میں ہے، اسے معلوم نہیں تھا کہ سندھ غیرت مند لوگوں کی دھرتی ہے اور یہاں کے لوگ بہادر ہیں۔ آج سندھ کے وکلا نے رجب بٹ کو کراچی کی مہمان نواز دکھائی ہے۔ اسی موقع پر بنائی گئی مزید ویڈیوز پر وکلا رجب بٹ پر مکوں اور تھپڑوں کی بارش کرتے ہیں اور اسی دھینگا مشتی کے دوران کپڑے پھٹ جاتے ہیں اور ان کو زخم بھی آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد نہ صرف سندھ حکومت نے اس واقعہ کا نوٹس لیا بلکہ رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر اشفاق احمد نے رجب بٹ پر حملے میں ملوث 20 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے۔جس میں تشدد اور لوٹ مار کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر اشفاق احمد کی مدعیت میں سٹی کورٹ تھانے پر دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 29 دسمبر کو اپنے مؤکل رجب علی بٹ کے ہمراہ تھانہ حیدری میں دائر مقدمے میں ضمانت کے لیے سٹی کورٹ آئے تھے جیسے ہی وہ ویسٹ بلڈنگ پہنچے تو اچانک رجب بٹ کے خلاف دائر کردہ مقدمے کے مدعی ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے اپنے دیگر 20 وکلا ساتھیوں کے ہمراہ حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں رجب بٹ کو شدید چوٹیں آئیں۔ایف آئی آر میں بیرسٹر اشفاق احمد نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے انھیں اور اُن کے دیگر وکلا ساتھیوں کو بھی ہراساں کیا اور اس دوران اُن کے مؤکل رجب بٹ کے ہاتھ میں موجود بیگ بھی زبردستی چھین لیا گیا جس میں تین لاکھ روپے موجود تھے۔ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعدازاں ریاض علی سولنگی ایڈووکیٹ نے وہ بیگ واپس کیا مگر اس میں رقم موجود نہیں تھی۔ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ حملہ آور وکلا نے رجب بٹ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
تاہم دوسری جانب وکلا برادری نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم رجب بٹ نے وکلاء کی تویین کی ہے۔ یہ واقعہ رجب بٹ کے وکلا کے خلاف متنازع ویڈیو بیان کے باعث پیش آیا اور رجب بٹ ویڈیو ریکارڈنگ کی تیاری کرکے جب دوستوں کے ہمراہ کراچی کی مقامی عدالت میں پہنچے تو اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کالے کوٹ اور ٹائی میں ملبوس افراد نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ملزم رجب بٹ کے وکیل نے اس معاملے میں کئی وکلاء ساتھیوں پر غلط مقدمہ درج کرایا ہے، جب ہم اپنے موقف پر مقدمہ درج کرانے گئے تو پولیس ایف آئی آر درج نہیں کررہی ہے۔ ادھر کراچی بار ایسوسی ایشن نے اپنا وزن وکلاء کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ یوٹیوبر ملزم رجب بٹ سمیت دیگر پر مقدمہ درج نہ کرنے کیخلاف کراچی بار ایسوسی ایشن نے آج سٹی کورٹ میں مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہڑتال کے دوران پولیس اہلکار اور افسران کے داخلہ پر مکمل پابندی ہوگی۔ جب تک رجب بٹ، ندیم نانی والا، میاں علی اشفاق سمیت دیگر پر مقدمہ درج نہ ہوا احتجاج جاری رہے گا۔
اُدھر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی وکلا کیخلاف مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ عبدالفتاح چانڈیو اور ریاض علی سولنگی سمیت 15 نامعلوم وکلا کیخلاف مقدمہ ناانصافی ہے۔ یہ ایف آئی آر صوبہ سندھ سے باہر کے ایک وکیل کی درخواست پر قانونی عمل کی پیروی کئے بغیر درج کی گئی ہے۔ ایک وکیل کے لیے کسی مؤکل کی جانب سے دوسرے وکیل کے خلاف ایف آئی آر کے لیے درخواست دائر کرنا غیر مناسب ہے اور بار اس عمل کو قانونی طریقہ کار کے سنگین غلط استعمال اور قانونی پیشے کی آزادی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
فیض حمید عمران خان کے خلاف سرکاری گواہ نہیں بن رہے، وکیل فیض حمید
ر رجب بٹ پر تشدد کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد بہت سے صارفین نے وکلا کی جانب سے تشدد کا رویہ اختیار کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا اور اس کی مذمت کی جبکہ یوٹیوبر رجب بٹ کی بہن اور اہلیہ نے حکام بالا سے اس واقعہ کا سخت نوٹس لینے اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم رجب بٹ کو ساتھیوں سمیت تشدد کا نشانہ بنانے والے وکیل ریاض علی سولنگی نے بھی اپنا دھمکی آمیز ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے۔ جاری ویڈیو پیغام میں وکیل کا کہنا ہے کہ رجب بٹ پھینٹی کھانے کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے لگتا ہے اب رجب بٹ کے بعد ندیم نانی والابھی اپنا سافٹ ویئر اپڈیٹ کروانا چاہتا ہے۔ جیسے ہی موقع ملا اب اس کا بھی سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کر دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان لوگوں کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ ہم سے کس طرح بدلہ لیتے ہیں ہم ہر قسم کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
