رنبیر کپور کی فلم ’’اینیمل‘‘ تنقید کی زد میں کیوں آگئی؟

رنبیر کپور کی فلم ’’اینیمل‘‘ پرتشدد اور فحش مناظر کی وجہ سے تنقید کی زد میں آ گئی ہے، فلم یکم دسمبر سے اب تک 200 کروڑ سے زائد کا بزنس کر چکی ہے، اور اس کو ’’جوان‘‘ کے بعد بالی ووڈ کی کامیاب ترین فلم قرار دیا جا رہا ہے۔اس فلم کو ’اے‘ سرٹیفیکیٹ دیا گیا ہے یعنی یہ صرف بالغوں کے دیکھنے لائق ہے تاہم اس فلم نے اب تک دنیا بھر میں 200 کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا ہے، برٹش بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے بھی اسے صرف بالغوں کے دیکھے جانے والی فلم قرار دیا ہے کیونکہ بورڈ کے مطابق ہدایتکار سندیپ ریڈی وانگا کی فلم اینیمل میں ’گھریلو تشدد کے کئی مناظر ہیں جن میں مرد خواتین کو مارتے ہیں، ان کی تذلیل کرتے ہیں، زبردستی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ ہدایتکار وانگا نے اس سے قبل اسی طرح کی دو فلمیں بنائیں تھیں جو بہت کامیاب رہی تھیں، پہلے تیلگو زبان میں ارجن ریڈی (2017) آئی اور پھر ہندی میں اس کا ریمیک کبیر سنگھ (2019) بنی، ان فلموں میں وانگا کو عورتوں کی تذلیل کرنے والے مناظر اور بدتمیز اور پرتشدد مردوں کو ہیرو بنانے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گيا تھا۔دی ہندوستان ٹائمز نے اس فلم کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس میں ’تشدد اپنے عروج پر ہے، خون ہی خون نظر آتا ہے، وحشت اور شیطانیت سے بھرپور ہے، صحافی سجاتا ناراین اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں لکھتی ہیں کہ ’ہاف ٹائم تک ہم یا تو رن وجے (فلم میں رنبیر سنگھ کے کردار کا نام) سے محبت کرنے لگتے ہیں یا اس سے نفرت کرتے ہیں لیکن ہم اسے مسترد یا نظر انداز نہیں کر پاتے ہیں۔اینیمل میں رنبیر کپور کے علاوہ اداکار بابی دیول بھی ہیں جنھوں نے اس کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یقین ہی نہیں آ رہا ہے۔‘ ان دونوں کے علاوہ 1980 اور 90 کی دہائی کے سٹار انیل کپور، اداکارہ رشمیکا مندانا اور ترپتی دمری اس فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، فلم میں کشت و خون کے علاوہ سیکس کے بولڈ مناظر بھی ہیں یہاں تک کہ اداکار رنبیر کپور نے خود کو پوری طرح برہنہ پیش کیا ہے جسے بہت سے ناقدین نے کسی سرکردہ اداکار کے لیے ’جرات مندانہ قدم‘ کہا ہے۔پارتھ پنٹر نامی صحافی نے بالی وڈ کے ’مسٹر پرفیکٹ‘ کہلانے والے اداکار عامر خان کا ایک پرانا انٹرویو پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’یہ انٹرویو فلم اینیمل اور اس کے خالق مسٹر وانگا پر صادق آتا ہے۔ عامر خان اس کلپ میں کہتے ہیں کہ ’آپ کبھی کبھی اس طرح سے کامیاب تو ہو جائیں گے لیکن یہ درست نہیں ہے، یہ سماج کے لیے اچھا نہیں ہے۔کنیکا دیورانی نامی ایک صارف نے لکھا کہ وانگا کی فلم میں ایسے مناظر ہیں ’جن پر فیمنسٹوں کو غصہ آئے گا لیکن مجھے اس بات پر صدمہ ہے کہ رشمیکا مندانہ، ترپتی دمری اور کیارا اڈوانی جیسی اداکارہ اس طرح کی فلمیں کیوں کرتی ہیں۔بی گڈ نامی ہینڈل سے لکھا گیا کہ ’چار پیڈ فی ماہ نہیں بلکہ کم از کم چار پیڈ روازنہ 11 سال کی عمر سے 59 سال کی عمر تک ہر ماہ۔ کچھ بنیادی معلومات رکھیے۔ خدا جانے آپ اپنے گھر کی خواتین سے کیسا سلوک کرتے ہوں گے۔ اسی طرح ایک خاتون نے لکھا کہ ’مہینے میں چار بار نہیں بلکہ دن میں چار بار بدلنا ہوتا ہے۔ اس بات سے پتا چلتا ہے کہ وانگا سر نے
کیا محمد حفیظ نے سلمان بٹ کو PCB سے برطرف کرایا؟
خواتین کے کردار کو لکھنے میں کتنا وقت لگایا ہے۔
