رنبیر کپور پاکستان میں کام کرنے کے بیان سے کیوں مکرے؟

بالی ووڈ سٹار رنبیر کپور نے پاکستان میں کام کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ انھوں نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ میں پاکستان میں کام کرنا چاہتا ہوں۔
بالی وڈ کے چاکلیٹی ہیرو نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2022 میں ان کے پاکستانی فلموں میں کام کرنے سے متعلق بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، رنبیر کپور نے دسمبر 2022 میں ریتیک روشن سمیت دیگر بھارتی فنکاروں کے ہمراہ سعودی عرب میں ہونے والے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں شرکت کی تھی، جس میں ماہرہ خان سمیت دیگر پاکستانی شوبز شخصیات بھی شریک ہوئی تھیں۔
فلم فیسٹیول کے ایک سیشن میں رنبیر کپور نے ایک پاکستانی فلم ساز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے ساتھ کام کرتے دکھائی دیں گے۔
رنبیر کپور کا کہنا تھا کہ فنکاروں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، فنکاروں کو سیاست سے بالاتر ہوکر کام کرنا چاہئے اور انہیں پاکستانی اداکاروں کے ساتھ کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تاہم اب انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کو غلط پیش کیا گیا اور وہ تنازع میں پڑنا نہیں چاہتے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق رنبیر کپور نے حال ہی میں اپنی آنے والی رومانٹک کامیڈی فلم تو جھوٹی، میں مکار کی پروموشن کی تقریب میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں ہونے والے فلم فیسٹیول میں متعدد پاکستانی فلم سازوں نے ان سے وہاں کام کرنے سے متعلق سوالات کیے، جس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اداکار کے لیے اداکاری ہی سب کچھ ہوتی ہے اور وہ ہر سینما کے لیے کام کر سکتا ہے۔
رنبیر کپور کے مطابق جس طرح انہیں فواد خان کے ساتھ اے دل ہے مشکل میں کام کر کے مزہ آیا، اسی طرح وہ متعدد پاکستانی شوبز شخصیات جن میں راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم جیسے افراد شامل ہیں، ان سے ان کی دعا سلام ہوتی ہے۔
بالی ووڈ اداکار کا کہنا تھا کہ اداکار کو کہیں بھی کام کرنے میں مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، کیوںکہ آرٹ اور آرٹسٹ کی کوئی حدود نہیں ہوتیں، پاکستان میں کام کرنے سے متعلق ان کے بیان کو بھارت میں غلط پیش کیا گیا اور وہ معاملے کے تنازع میں نہیں جانا چاہتے۔
ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ آرٹ کی عزت کرنی چاہئے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آرٹ اپنے ملک سے بڑھ کر نہیں ہوتا، اگر کسیی بھی شخص یا ملک کے آپ کے ملک سے تعلقات صحیح نہییں ہوں تو سب سے پہلے اپنے ملک کو اہمیت دی جانی چاہئے۔
