افغان طالبان کی دھلائی کے بعد پاکستان میں دہشتگردی میں ریکارڈ کمی

 

 

 

 

پاک فوج کی جانب سے آپریشن غضب للحق کے تحت ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند دہشتگرد ٹولوں کے خلاف افغانستان میں جاری کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 کے دوران پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں اور عسکریت پسندانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 35 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں ریکارڈ کمی کو سیکیورٹی اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور سرحد پار کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ سیکورٹی اداروں کی یہ حکمت عملی دہشت گرد نیٹ ورکس کو محدود کرنے، خاص طور پر بڑے اور ہائی پروفائل حملوں کی صلاحیت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے،۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ریاستی اداروں کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کو تسلسل کے ساتھ جاری نہ رکھا گیا اور علاقائی تعاون کو مؤثر انداز میں فروغ نہ دیا گیا تو یہ بہتری عارضی ثابت ہو سکتی ہے اور دہشت گرد گروہ دوبارہ منظم ہو کر پاکستان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں، جس سے سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر چیلنجز کا شکار ہو سکتی ہے۔

 

اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق کے اثرات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق دہشتگردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں فروری میں 506 اموات کے مقابلے میں مارچ میں یہ تعداد کم ہو کر 331 رہ گئی ہے، جو کہ مجموعی طور پر 35 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب پاکستان نے فروری کے آخری ہفتے میں سرحد پار کارروائیوں کے ذریعے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے بعد اگرچہ کالعدم تنظیموں جیسے تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین نے حملوں میں اضافے کا اعلان کیا، تاہم مجموعی طور پر ان کا اثر محدود رہا۔

 

پی سی آئی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندانہ سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود مجموعی اثرات محدود رہے، جس کا واضح ثبوت اموات میں تیزی سے آنے والی کمی ہے۔ تھنک ٹینک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروری میں 132 کے مقابلے میں مارچ کے دوران شہری اموات کم ہو کر 39 رہ گئیں، جو تقریباً 70 فیصد نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اموات 26 فیصد کمی کے ساتھ 80 سے کم ہو کر 59 ہو گئیں جبکہ دوسری جانب عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں بھی 294 سے گھٹ کر 228 رہ گئیں، جو 22 فیصد کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہریوں کے خلاف حملوں میں سب سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں ایسے واقعات کی تعداد 62 فیصد کمی سے 259 سے کم ہو کر 98 رہ گئی تاہم اس کے برعکس گزشتہ ماہ کے دوران حکومت کے حامی امن کمیٹی کے ارکان کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں فروری کے مقابلے میں مارچ میں پانچ افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں عسکریت پسندوں کے 146 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن کی تعداد فروری کے 83 حملوں کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے، تاہم مارچ 2026میں خودکش حملوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی اور یہ تعداد پانچ سے کم ہو کر صرف ایک رہ گئی۔ اسی دوران گزشتہ ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز نے 41 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا، جبکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے 19 افراد کے اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

 

رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران بلوچستان سب سے زیادہ دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ رہا، تاہم یہاں بھی اموات میں 34 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں 42 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو سکیورٹی آپریشنز کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی، جہاں مارچ کے دوران کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ گلگت بلتستان میں ایک حملے کی کوشش کو بروقت ناکام بنا دیا گیا۔

ایرانی میزائل ٹیکنالوجی نے دشمن کے اندازے کیسے غلط ثابت کیے

آپریشن غضب للحق کو پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، دفاعی ماہرین کے مطابق آپریشن غضب للحق نے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے، سیکیورٹی اداروں کی مربوط کارروائیوں سے خاص طور پر پاکستان مخالف دہشتگردوں کے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار کارروائیاں ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکریت پسند گروہ اب کم شدت دہشتگردانہ کارروائیوں کی طرف جا رہے ہیں، تاکہ دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب ان گروہوں کے نیٹ ورکس، فنڈنگ اور سہولت کاروں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل، مربوط اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست اسی رفتار سے کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی امید کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر یہ کمی محض ایک عارضی وقفہ بھی ثابت ہو سکتی ہے اور آنے والے مہینوں میں پاکستان کو مزید دہشتگردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button