عمران خان کامقدمات کی جوڈیشل انکوائری کیلئےسپریم کورٹ سےرجوع

عمران خان نے مقدمات کے اندراج، سیاسی پابندیوں سمیت دیگر شکایات کی بنیاد پر جوڈیشل انکوائری کیلئےسپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت دفاع، چاروں چیف سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں چاروں آئی جیز سمیت 15 فریق بنائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں انکوائری کا مطالبہ

سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ 3رکنی جوڈیشل انکوائری میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کو بھی شامل کیا جائے۔

پی ٹی آئی پرمظالم کیخلاف انکوائری کی جائے،استدعا

درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری کمیشن سے پی ٹی آئی اور اس کی قیادت پر ڈھائے گئے مظالم کی انکوائری کرائی جائے۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، پر امن احتجاج، اظہار رائے، شفاف ٹرائل کا حکم جاری کیا جائے۔

دفعہ144کےنفاذکاغط استعمال روک جائے،پی ٹی آئی

عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے غلط استعمال کو ختم کیا جائے، ایم پی او کے تحت امتیازی گرفتاریوں سے روکا جائے، ایک ہی شخص کیخلاف متعدد ایف آئی آرز کے اجرا سے روکا جائے، پی ٹی آئی کے احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنان کیخلاف کارروائیوں سے روکا جائے اور پی ٹی آئی کو جلسے کرنے کے لیے احکامات جاری کیے جائیں۔

واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے عدلیہ کی بحالی اور 26ویں آئینی ترمیم کی واپسی کیلئے 24نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال بھی دی گئی ہے۔عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ تحریک انصاف کا احتجاج جب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہو جاتے۔

Back to top button