رہائی فورس منصوبہ بند،آفریدی و علیمہ خان گروپ کو شکست فاش 

 

 

 

تحریک انصاف کے آفریدی و علیمہ خان گروپ نے گھٹنے ٹیک دئیے۔ تحریک انصاف نے بڑھتے ہوئے پارٹی اختلافات اور عوامی تنقید کے بعد اپنی نجی ملیشیا بنانے کا پروگرام ترک کرتے ہوئے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کا مجوزہ ،منصوبہ بند کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کے اس یوٹرن کو پارٹی کے سخت گیر اور شدت پسند رہنماؤں کیلئے بڑی ناکامی اورسخت دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی فورس کا منصوبہ ایک ایسے وقت میں ترک کیا گیا ہے جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے عمران خان رہائی فورس کے نام پر بنائی جانے والی نجی ملیشیا کی رجسٹریشن کے آغاز اور کارکنان سے ملک کی بجائے پارٹی وفاداری کےحلف لینے کے دعوے کئے جا رہے تھے جبکہ پی ٹی آئی چئیرمین گوہر خان سمیت پارٹی کے مفاہمتی گروپ کی طرف سے اس غیر سیاسی اقدام کو ریاستی رٹ، جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی کے لیے بھی ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ پارٹی کے امن پسند رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ تحریک انصاف کی اس نوعیت کی سرگرمیاں سیاسی جدوجہد کو پرامن دائرے سے نکال کر ایک خطرناک رخ دے سکتی ہیں، جس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی سیاست کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے بلکہ عمران خان کیلئے ممکنہ سیاسی یا قانونی ریلیف کی فراہمی کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے بیرسٹر گوہر خان گروپ کی جانب سے اس فیصلے کی مسلسل سخت مخالفت سامنے آ رہی تھی جس پر اب مد مقابل آفریدی و علیمہ خان گروپ نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کے منصوبے کو بند کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔جس کے بعد پی ٹی آئی کا مفاہمتی گروپ مزاحمتی گروہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا۔

مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے "عمران خان ریلیز فورس” کے قیام کے منصوبے کو اچانک ختم کر دینا محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کی تبدیلی کا اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ بظاہر یہ اقدام قانونی خدشات اور اندرونی اختلافات کے باعث اٹھایا گیا، لیکن اس کے پس منظر میں کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ابتدائی طور پر رہائی فورس کا تصور ایک جارحانہ اور منظم تحریک کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس کا مقصد کارکنوں کو ایک واضح ڈھانچے میں لا کر عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور دباؤ ڈالنا تھا۔ تاہم، جیسے ہی اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آئیں، نہ صرف پارٹی کے اندر بلکہ قانونی حلقوں میں بھی اس پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پی ٹی آئی قیادت، خصوصاً چیئرمین گوہر علی خان کی جانب سے اسے غیر آئینی اور ممکنہ طور پر عسکریت پسندی کے زمرے میں آنے کا انتباہ، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پارٹی اب کسی بھی ایسے قدم سے گریز کرنے کی خواہاں ہے جو اسے مزید مشکلات سے دوچار کرنے کا سبب بنے۔  سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی قیادت یہ جان چکی ہے کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور بعد ازاں اسلام آباد میں ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اسے قانونی اور سیاسی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں پی ٹی آئی کا "رہائی فورس” جیسے متنازعہ منصوبے سے پیچھے ہٹنا ایک محتاط حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے تاکہ عمران خان سمیت پارٹی لیڈر شپ کیلئے سیاسی و قانونی ریلیف کی راہ ہموار کی جا سکے۔

عمران خان کی پی ٹی آئی شیخ مجیب کے راستے پر چل نکلی

 

مبصرین کے بقول پی ٹی آئی قیادت کے اس فیصلے کو پارٹی کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ عمران خان رہائی فورس کی تشکیل پر یوٹرن لینے سے پارٹی کے جارحانہ اور سخت گیر مؤقف رکھنے والے عناصرپس منظر میں چلے گئے ہیں، جبکہ محتاط اور مفاہمتی راستہ اپنانے والی قیادت کو برتری حاصل ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف رہائی فورس کی تشکیل سے پیچھے ہٹ گئی ہے بلکہ اس نے ایک وسیع، پُرامن اور جمہوری تحریک کے لئے راگ الاپنا بھی شروع کر دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اب ایک نئے مفاہمتی راستے کی تلاش میں ہے، جہاں تصادم کے بجائے محتاط اور منظم سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ حکوم و اسٹیبلشمنٹ کو رام کیا جا سکے۔

Back to top button