تنخواہ دارطبقے کو ریلیف،سپرٹیکس کاخاتمہ آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط

وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی بھی آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط کر دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں جہاں وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متعلق ٹیکس تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے پاکستان کے لیے معاشی خطرات اور بے یقینی میں اضافہ کر دیا ہے اور بہتری کے باوجود معاشی غیر یقینی اورخطرات برقرار ہیں۔

حکام کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے البتہ ترسیلات زر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور سپر ٹیکس کا خاتمہ آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا، تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی کے لیے آئی ایم ایف سے منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔

رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے 4 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے، اسٹیٹ بینک جی ڈی پی گروتھ شرح 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد تک رہنے کے لیے پرامید ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالر کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے کذخائر 16.3 ارب ڈالر ہیں۔

Back to top button