عمران خان کی بہنیں جسمانی ریمانڈ پرپولیس کےحوالے

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اورعظمیٰ خان کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کےحوالےکردیا۔
دو روز قبل اسلام آباد سےگرفتارہونےوالی علیمہ خان، عظمیٰ خان کوآج اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نےدونوں کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کےحوالے کردیا۔
سیشن عدالت نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصرکےبھائی عدنان خان کو بھی ایک روزہ جسمانی ریمانڈپرپولیس کےحوالےکردیا۔
ڈیوٹی جج نےعلیمہ خان،عظمیٰ خان اوردیگر ملزمان کوکل انسداد دِہشتگردی عدالت پیش کرنےکاحکم دیا ہے۔
خیال رہے عمران خان کی بہنوں کو 2 روز قبل اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک سے گرفتار کیا تھا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے گزشتہ روز اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، عظمی خان سمیت گرفتارخواتین کارکنوں کے حوالے سے رپورٹ طلب کی تھی
پاکستان تحریک انصاف نے علیمہ خان، عظمی خان سمیت گزشتہ روز احتجاج کے دوران گرفتار کی گئیں خواتین ورکرز کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی، درخواست پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے دائر کی گئی۔سیشن جج نے درخواست پر آج ہی سماعت کے لیے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کے پاس ارسال کی جنہوں نے خالد یوسف چوہدری کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی،
درخواست گزار وکیل فیصل فرید چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، دلائل سننے کے بعد عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خانم اور ڈاکٹر عظمی کی بازیابی کے لیے فہیم داد کو بیلف مقرر کردیا اور پیر7 اکتوبر کو بیلف رپورٹ طلب کرلی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ حلیمہ خان اور عظمی خان کو کل ڈی چوک سے حراست میں کیا گیا، ابھی تک انھیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ کسی مقدمے کے بارے میں بتایا گیا ہے، پولیس نے دونوں بہنوں کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس حراست میں رکھا ہے۔
علی امین گنڈاپورکےغائب ہونےکےحقائق منظرعام پرآگئے
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے ریڈ زون میں ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا تھا اور اب تک بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں سمیت 30 افراد کو ڈی چوک سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
