کیا سول ملٹری قیادت میں اختلاف کی خبریں سچ ہیں

معروف صحافی اور ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر عباس ناصر نے کہا ہے کہ جب خود وزیرِاعظم اور فوجی سربراہ کے ترجمان کا یہی کہنا ہے کہ سول ملٹری تعلقات نہ صرف ٹھیک ہیں بلکہ مثالی ہیں تو پھر افواہوں کی نوبت ہی کیوں آتی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کے درمیان تنازعات کی خبریں محض قیاس آرائی پر مبنی نہیں ہیں بلکہ حقیقت کے قریب تر ہیں اور حکومتِ وقت کے لیے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
ڈان اخبار کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عباس ناصر کہتے ہیں کہ فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بریفنگ میں اسلام آباد میں کسی تبدیلی کے پیش خیمے کے طور پر نواز شریف کے ساتھ کسی ڈیل کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔ اس سے پہلے خود وزیرِاعظم عمران خان نے بھی سابق وزیرِاعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک واپس آنے کے لیے کسی ڈیل کے منتظر ہیں تاکہ وہ چوتھی مرتبہ وزیراعظم بن سکیں لہذا بقول عباس ناصر یہ بات واضح نہیں ہے کہ جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ کہا تھا کہ ’ڈیل بارے سوال ان لوگوں سے کیا جائے جو اس قسم کی باتیں کررہے ہیں‘ تو ان کا اشارہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی جانب تھا یا پھر صرف ٹیلی وژن پر آنے والے ان تجزیہ کاروں کی جانب جو ’ایک صفحے کے‘ ہائبرڈ اتفاق رائے کے ٹوٹنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ڈیل کی بات کر رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وزیرِاعظم کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے نوٹی فیکیشن میں تاخیر نے اس تازہ ترین کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ لیکن جنرل بابر اپنے ادارے کو ‘حکومت کے ماتحت’ اور اس کی ہدایات کے مطابق کام کرنے والے ادارے کے طور پر بیان کرتے ہوئے سول ملٹری تنازعہ پر کسی بھی سوال کو نظر انداز کرنے کے خواہاں تھے۔ بقول عباس باصر، وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کے کسی سوال کا بھی جواب نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے پہلے بھی آپ سے درخواست کی تھی کہ اس قسم کی بحث میں مت الجھا کریں اور بے بنیاد افواہوں پر زیادہ توجہ مت دیا کریں‘۔ واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں پہلے ہی 3 سال کی توسیع ہوچکی ہے۔ اب ہم وزیرِاعظم کی جانب سے دنیا نیوز کے اینکر خاور گھمن کو دیے گئے انٹرویو کا ذکر کرتے ہیں جس کے بہت چرچے ہوئے۔ اس انٹرویو میں وزیرِاعظم نے بھی سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر جیسے خیالات کا ہی اظہار کیا اور ان تعلقات کو مثالی قرار دیا۔ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں ایک بار پھر ممکنہ توسیع کے سوال پر وزیرِاعظم نے کہا کہ نومبر بہت دُور ہے تو ’پھر توسیع کے حوالے سے ابھی کیوں فکر کی جارہی ہے۔۔۔‘۔
عباس ناصر کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ کوئی اشارہ تھا یا نہیں کیونکہ انہوں نے اس معاملے پر کوئی واضح بیان نہیں دیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خود وزیرِاعظم اور فوج اور اس کے سربراہ کے ترجمان کا یہی کہنا ہے کہ سول ملٹری تعلقات نہ صرف ٹھیک ہیں بلکہ مثالی ہیں تو پھر افواہوں کی نوبت ہی کیوں آتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے درمیان تنازعات کی خبریں محض قیاس آرائی پر مبنی نہیں ہیں بلکہ یہ طاقت کے مراکز کے قریب رہنے والے ذرائع سے صحافیوں کو ملنے والی غیر رسمی اور غیر منسوب ‘بریفنگ’ پر مبنی ہیں۔ بقول عباس ناصر، جو کچھ ہم سمجھتے ہیں اور اصل کردار آن ریکارڈ جو کچھ کہتے ہیں اس میں سے درست کیا ہے یہ جاننے کے لیے ہمیں دیگر چھوٹے چھوٹے واقعات اور بیانات پر توجہ دینی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ ہمارے خیالات کا ساتھ دیتے ہیں یا پھر حکام کے آن ریکارڈ بیانات کا۔ مثال کے طور پر جو بھی تحریک انصاف کے سابقہ ستونوں میں سے ایک جہانگیر خان ترین کے سیاسی کیرئیر سے واقف ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ جہانگیر ترین اہم سیاسی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کے مؤقف سے دُور نہیں بھٹکتے۔
ان کا سیاسی کیریئر جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں پروان چڑھا۔ انہوں نے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے سے قبل 2002ء سے 2004ء تک پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور وہ وفاقی کابینہ میں 2007ء تک رہے۔ 2008ء میں وہ مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں پہنچے۔ تاہم جب 2011ء میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل شجاع پاشا نے مختلف جماعتوں کے اراکین کو عمران خان کی جماعت میں آنے کے لیے کہا تو جہانگیر ترین بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔
سب کو معلوم ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں جب پی ٹی آئی سادہ اکثریت کے حصول میں ناکام رہی تو جہانگیر ترین نے طاقتور حلقوں کے ساتھ مل کر پارلیمانی اکثریت کو یقینی بنانے کے لیے کیا کھیل کھیلا۔
18 ارب کا کرپٹو کرنسی فراڈ کرنے والوں پر شکنجہ تنگ
عباس ناصر کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی دُوری حال ہی میں ہوئی ہے اور اس کی وجوہات بھی ذہنوں میں تازہ ہیں، لہٰذا اس پر الفاظ ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جس چیز کا تذکرہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کی حمایت کرنے والے موجودہ اراکین اسمبلی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ حکمران جماعت کے پیروں تلے زمین کھینچنے کے لیے کسی بھی وقت حزبِ اختلاف کو عددی مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں یا پھر انہیں ان حلقوں کی جانب سے ایسا کرنے کا حکم مل چکا ہے جنہیں وہ کبھی انکار نہیں کرتے۔ ہاں ان کا وہ بیان بہت واضح ہے جو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی بیٹی کی شادی کے موقع پر دیا تھا۔ صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا ’آپ کا جہاز [یعنی خود جہانگیر ترین] مسلم لیگ (ن) کی جانب بھی جاسکتا ہے؟‘ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’جہاز تو کسی بھی جانب اڑ سکتا ہے، لیکن میں یہاں شادی میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔۔۔ ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے، انشااللہ۔ جو ہونا ہوگا وہی ہوگا‘۔ ان حالات میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکومتِ وقت کے لیے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
