مستعفی ججز سیاسی پارٹی کے ورکر بنے ہوئے تھے : خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا سپریم کورٹ سے مستعفی ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ججز آئین اور قانون کے بجائے کسی کے سیاسی مفادات کے محافظ تھے، سیاسی پارٹی کے ورکر بنے ہوئے تھے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنے والے ہمیں طعنہ دے رہے ہیں۔اسمبلی تحلیل کرنے والے افراد ہی آج آئینی ترمیم اور قانون سازی پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں،گویا اخلاقی ابتری کے حامل لوگ پاکیزگی کے درس دینے لگے ہوں۔
خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے سابق جج منصور علی شاہ کے استعفے کے ساتھ لکھے گئے شعر پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جب انصاف کو روندا جارہا تھا، اس وقت یہ شعر ان کو یاد نہ آیا۔اس دور میں ججوں کا ایک مخصوص گروہ سیاسی مفادات کا پاسبان بنا ہوا تھا۔
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی
وزیر دفاع نے کہا کہ ایسے جج آئین و قانون کے بجائے کچھ مخصوص سیاسی اہداف کے محافظ بنے رہے۔وہ سیاسی جماعت کے کارکنوں کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے تھے۔ اگر شعر لکھنے سے پہلے اپنے ماضی پر ایک نگاہ ڈال لیتے تو شاید حیا کا کوئی احساس بیدار ہو جاتا۔
