پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بحال

پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم کے باعث بند کی گئی چمن اسپن بولداک سرحد کو دوبارہ کھول دیا گیا جس سے دونوں‌ ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں‌ کا دوبارہ سے آغاز ہو گیا ہے، سرحد کے فرینڈ شپ گیٹ کے دونوں اطراف سے مزاحمتیں ہٹادی گئی۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد مولوی حاجی فیض اللہ نورزئی کی سربراہی تشکیل دیے گئے علما کے وفد اور قندھار کے گورنر یوسف وفا سمیت دیگر طالبان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے بعد کھولی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان عہدیداران سے مذاکرات کے دوران علما کا وفد پاکستانی حکام سے رابطے میں تھا۔علما وفد کے ترجمان مفتی محمد قاسم کا کہنا ہے کہ’ ہمارے مذاکرات فائدہ مند رہے جس کے نتیجے میں سرحد کھول دی گئی ہے۔انہوں نے کہا وفد نے قندھار کے گورنر اور دیگر طلبان رہنماؤں کو پاکستانی حکام کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کے سبب دونوں اطراف میں موجود تاجروں کو مالی طور پرنقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جہانگیر ترین طبیعت خراب ہونے پر لندن روانہ

مفتی قاسم کے مطابق’دونوں فریقین کی جانب سے تصادم کی مذمت کی گئی ہے اس تصادم کی وجہ سےدونوں اطراف جانوں ضائع ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ جھڑپوں کی وجہ بننے والے مسائل کے حل کے لیے دونوں اطراف کے سرحدی حکام میں چند روز میں ایک اور ملاقات متوقع ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے سینئر عہدیداران کے درمیان براہِ راست گفتگو دونوں اطراف سرحدی علاقوں میں تنازعات میں کمی میں مدد گار ثابت ہوگی۔مفتی قاسم نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہونے کا امکان ہے تاہم سرحد کھولنے کے بعد 24 فروری سے معطل شدہ ٹریفک بحال ہوچکا ہے۔

سرحد کھلنے کے بعد بڑی تعداد میں افغانستان ٹرانزٹ کا سامان، درآمد اور برآمد کی اشیا، تازہ پھل اور سبزیاں لے کر جانے والے ٹرک سرحد پار کر چکے ہیں۔علاوہ ازیں دونوں اطراف پھنسے ہوئے سیکڑوں پاکستانی اور افغان شہری بھی اپنے اپنے ممالک لوٹ گئے ہیں، ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق نائب صدر عمران خان کاکڑ نے ڈان کو بتایا کہ سرحد کھلنے کے بعد سیکڑوں دیہاڑی دار مزدور بھی سرحد پار گئے اور چمن میں ٹرکوں میں سامان کی لوڈ اور ان لوڈ کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

Back to top button