احتجاج کی کال کی واپسی عمران خان کو رعایت سے مشروط

پی ٹی آئی نے حکومت کےساتھ پس پردہ مذاکرات میں24 نومبر کی احتجاج کی کال کی واپسی عمران خان کوریلیف سےمشروط کردی۔
پی ٹی آئی کے پس پردہ مذاکرات جاری
تحریک انصاف کےحکومت سے پس پردہ مذاکرات جاری ہیں جس میں اپوزیشن جماعت نے24نومبرکی کال واپس لینے کیلئےشرائط پیش کردی ہیں۔
ذرائع کےمطابق پس پردہ مذاکرات میں تحریک انصاف نےبانی پی ٹی آئی عمران خان کواڈیالہ جیل سےخیبرپختونخوامنتقل کرنےکامطالبہ کیا ہے،جاری مذاکرات میں ایک دوروزمیں پیشرفت کاامکان ہے۔
عمران خان کی بیرون ملک منتقلی کا آپشن
اس سوال پر کہ کیا بانی پی ٹی آئی کوباہر منتقل کرنےکاآپشن بھی ہے؟ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بیرون ملک بھیجنےکی پیشکش پہلےہی کی جاچکی ہے لیکن وہ آمادہ نہیں۔
پی ٹی آئی کےذرائع کا کہناہےکہ مطالبات رکھدیے،حکومت مان گئی تواحتجاج کی کال واپس لیں گے، حکومت نہ مانی توفائنل کال کی تیاری مکمل ہے،ہم نے خواتین قیدیوں سےمتعلق بھی مطالبات رکھے ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا مذاکرات محسن نقوی کےساتھ ہورہےہیں؟ذرائع پی ٹی آئی نے کہاکہ نہیں،ہمارےبراہ راست مذاکرات ہورہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو توشہ خانہ کیس2میں ضمانت کے باوجود رہانی نہیں ملےگی،سابق وزیراعظم کو جیل سے رہائی کےلیےمزید66مقدمات میں ضمانت درکارہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسلام آباد میں درج مزید16اورپنجاب میں9 مئی کے8 مقدمات سمیت مزید50مقدمات میں ضمانت نہیں ہوسکی ہے۔
سابق وزیراعظم کےخلاف اسلام آباد کےتھانہ کوہسار میں4،تھانہ نون میں2،کورال میں ایک مقدمہ درج ہےجبکہ تھانہ گولڑہ ،کراچی کمپنی،آئی نائن، شہزاد ٹاون، سنگجانی اورتھانہ رمنا میں بھی ایک ایک مقدمہ درج ہے۔
سابق وزیراعظم کےخلاف تھانہ آبپارہ، مارگلہ اور تھانہ ترنول میں بھی ایک ایک مقدمہ درج ہے،عمران خان پردرج مقدمات میں انسداد دہشت گردی،کارسرکار مداخلت،دفعہ144 کی خلاف ورزی سمیت دیگردفعات شامل ہیں۔
دریں اثنا پنجاب میں بھی بانی تحریک انصاف کےخلاف مجموعی طورپر54 مقدمات درج ہیں جن میں9 مئی12مقدمات بھی شامل ہیں ۔
