فوجی شخصیات پر عمران کی مدد کرنے کے لئے دباؤ کا انکشاف

پاکستانی ایلیٹ کی فیورٹ تعلیم گاہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز یا لمز میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ خطاب اور گفتگو کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں ہیں اور پتہ چلا ہے کہ وہاں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے دائر کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر بھی بات ہوئی۔ سینئر صحافی اسد علی طور نے انکشاف کیا ہے کہ لمز میں گفتگو کے دوران آرمی چیف نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں فوج کے ادارے کا کوئی کردار نہیں، تاہم انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چند عسکری شخصیات کے رشتہ داروں کو یہاں وہاں سے فون کر کے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ آرمی چیف نے چند دن قبل لاہور میں لمز کے طلبہ سے خطاب کیا تھا، آرمی چیف کا طلبہ سے گفتگو کا سیشن 2 گھنٹے جاری رہنا تھا تاہم مسلسل سوالات کے باعث یہ سیشن 7 گھنٹے لمبا ہو گیا تھا۔ جنرل قمر باجوہ نے طلبہ سے اپنے خطاب میں فوج پر ہونے والی تنقید کا کھل کر اور تفصیل سے جواب دیا۔
سینئیر صحافی اسد علی طور نے اپنے ’وی لاگ‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر حراست رکن قومی اسمبلی علی وزیر سے متعلق سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ انکے گھر کے بہت سے افراد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ علی وزیر اور فوج کے ادارے کے مابین تلخی کی اصل وجہ زمین کا ایک سودا ہے۔ اسد طور کے مطابق جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ علی وزیر سے فوج نے کچھ زمین خریدی تھی اور انہیں اسکی قیمت بھی ادا کر دی تھی، لیکن بعد میں علی وزیر نے بیچی گئی زمین پر مسئلہ کھڑا کر دیا، جس پر علی وزیر اور فوج میں تلخیاں بڑھ گئیں۔ تاہم یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ ماضی میں اس سے متعلق کبھی کوئی بات منظر عام پر آئی ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2016ء میں وانا سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ ایک سکیورٹی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم کچھ گھنٹوں بعد یہ معلوم ہوا تھا کہ پولیٹیکل انتظامیہ اور فورسز کی جانب سے 120 دکانوں پر مشتمل علی وزیر کے خاندان کی ملکیتی مارکیٹ کو بموں سے اڑایا گیا تھا۔ اسد علی طور نے لمز میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے بتایا کہ جنرل باجوہ کا کہنا تھا امریکہ کے ساتھ سیٹو سینٹو معاہدے کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملا۔
انہون نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کا افغان جنگ میں دونوں مرتبہ جانے کا فیصلہ بھی غلط تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان سے بہت آگے نکل گیا ہے، جس سے اس کی جاسوسی کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بھی کہا کہ ملک میں کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما ایسا نہیں جو پاکستان کو آگے لے کر جا سکے۔ انکامکہنا تھا کہ اسی وجہ سے مجبوری میں فوج کو کہیں نہ کہیں مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ بلآخر دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی سیاستدانوں نے ہی چلانا ہے۔
بقول اسد طور، آرمی چیف نے لمز خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں کوئی کردار نہیں ہے۔ تاہم سیاستدان ہمارے رشتے داروں کو فون کالز کر کے راستہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نیوٹرل کا جو مرضی مطلب نکال لیں، ہم اس کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے، اور نہ ہی ہم اس کھیل کے پیچھے ہیں
