پاسداران انقلاب کاخلیجی ممالک میں امریکی اداروں پر حملے کااعلان

ایران کے پاسدارانِ انقلاب  نےخبردار کیا ہے کہ جن امریکی اداروں کو وہ دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث سمجھتے ہیں، انہیں اب باقاعدہ اہداف تصور کیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حکمران طبقے اور اس سے وابستہ مبینہ جاسوس کمپنیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے بارہا دی گئی تنبیہات کو نظر انداز کیا گیا اور حالیہ حملوں میں امریکا اور اسرائیل کے مبینہ اشتراک سے متعدد ایرانی شہری جاں بحق ہوئے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹارگٹڈ حملوں کی منصوبہ بندی اور اہداف کی نشاندہی میں امریکی آئی سی ٹی  اور مصنوعی ذہانت  کمپنیوں کا مرکزی کردار ہے جس کے باعث اب ایسے تمام اداروں کو جو ان کارروائیوں میں شامل ہیں جائز ہدف قرار دیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب نے ان کمپنیوں کے ملازمین کو فوری طور پر اپنی ملازمتیں چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ وہ اپنی جانیں بچا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کے مختلف ممالک میں ان کمپنیوں کے دفاتر کے اطراف رہنے والے افراد کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک کلومیٹر کے دائرے سے باہر نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

بیان کے مطابق دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں سرگرم کمپنیوں کے خلاف ہر حملے کے جواب میں کارروائی کی جائے گی، اور انہیں ممکنہ نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جن کمپنیوں کو نامزد کیا گیا ہے ان میں سسکو، ایچ پی، انٹیل، اوریکل، مائیکروسافٹ، ایپل، گوگل، میٹا، آئی بی ایم، ڈیل، پلانٹر، این ویڈیا، جے پی مورگن، ٹیسلا، جنرل الیکٹرک، اسپائر سلوشنز، جی 42 اور بوئنگ شامل ہیں۔

 

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران میں ہونے والے ہر مبینہ ٹارگٹڈ قتل کے ردعمل میں بدھ یکم اپریل کو تہران کے وقت کے مطابق رات 8 بجے سے ان کمپنیوں کے متعلقہ یونٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

Back to top button