وفاقی اداروں کی رائٹ سائزنگ مؤخر، حکومت ایف بی آر کی تنظیم نو میں مصروف

وفاقی حکومت کے ڈھانچے کو مختصر اور مؤثر بنانے (رائٹ سائزنگ) کے لیے مقرر کردہ حتمی تاریخ جون میں ختم ہو چکی ہے، تاہم کابینہ کمیٹی برائے رائٹ سائزنگ (سی سی آر) نے منگل کو ہونے والے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات پر خصوصی توجہ مرکوز کی، جسے ملکی مالیاتی نظام کی ’مرکزی اکائی‘ قرار دیا گیا۔
یہ اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور محکموں، بشمول پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC)، وزارت قانون، اور ایف بی آر کی کارکردگی اور موجودہ حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔
یاد رہے کہ وزیر خزانہ نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ تمام 42 وفاقی وزارتوں اور ان سے منسلک اداروں کی رائٹ سائزنگ مالی سال 2025 کے اختتام تک مکمل کی جائے گی، تاکہ انتظامی کارکردگی بہتر ہو اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ وزارت خزانہ کو تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے کیش بیلنسز کی مکمل نگرانی حاصل ہو گی تاکہ آسامیوں کے خاتمے، معمولی نوعیت کی خدمات کی آؤٹ سورسنگ اور عارضی عملے میں کمی جیسے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ ان اداروں کو مالی سال 2025 کے لیے تقریباً 840 ارب روپے کا بجٹ دیا گیا ہے، اور اگر اس میں کمی نہ کی گئی تو یہ عمل ناکامی تصور ہوگا۔
اگرچہ رائٹ سائزنگ کے اثرات بجٹ 2026 میں علیحدہ طور پر ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم سول حکومت کے انتظامی اخراجات کا تخمینہ 839 ارب روپے سے بڑھا کر 971 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، تمام 42 یا 43 وزارتوں، ان کے ذیلی اداروں اور کارپوریٹ باڈیز کی رائٹ سائزنگ کا عمل 30 جون تک مکمل نہ ہو سکا۔ اس وقت سی سی آر مختلف وزارتوں کو خطوط ارسال کر رہی ہے، تاکہ وہ اپنی کارکردگی، افادیت اور نتائج کی روشنی میں اپنے وجود، بندش یا حجم میں کمی کے جواز سے متعلق تفصیلات فراہم کریں۔
رائٹ سائزنگ کی ذیلی کمیٹی، جس کی قیادت سفیر برائے خصوصی امور سلمان احمد کر رہے ہیں، نے ریونیو ڈویژن کے تنظیمی ڈھانچے سے متعلق چند تجاویز پر غور کیا۔
تحریک انصاف جمہوری رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں،راناثنااللہ
پیش کردہ تجاویز میں ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک جامع منصوبہ شامل تھا، جس کا مقصد ڈھانچے کی مؤثریت، انسانی وسائل کی بہتر تقسیم، اور قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں نتائج پر مبنی طرز حکمرانی، مؤثر کارکردگی مینجمنٹ سسٹمز اور جواب دہ احتسابی نظام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا تاکہ عوامی خدمات کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے شرکا کو یاد دہانی کروائی کہ ایف بی آر ملک کے مالیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور حکومت وزیر اعظم کی منظوری سے ایف بی آر میں وسیع تبدیلیوں کے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب بڑھایا جا سکے اور ادارے کو ایک جدید، مؤثر اور جواب دہ ریونیو اتھارٹی میں تبدیل کیا جا سکے، جو ملک کے مالیاتی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
