عروج، زوال اور پھر عروج: نہال ہاشمی کا گورنر شپ کا سفر

 

 

 

گورنر سندھ بننے والے مسلم لیگ نون کے رہنما نہال ہاشمی نے زوال سے عروج کا سفر طے کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نہال ہاشمی کی سیاسی زندگی پاکستانی سیاست کی ایک منفرد مثال ہے جس میں اقتدار کا عروج، شدید بحران کے بعد زوال اور پھر سیاسی واپسی تینوں مراحل واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ملیر کے ایک متحرک سیاسی کارکن سے لے کر سینیٹ کے ایوان تک اور پھر تنازعات کے باعث منظر سے غائب ہونے کے بعد گورنر ہاؤس سندھ تک پہنچنا، نہال ہاشمی کی سیاسی کہانی کو پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کی ایک واضح تصویر بنا دیتا ہے۔

 

نہال ہاشمی نے جمعہ کے روز گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر صوبے میں وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ گورنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

 

نہال ہاشمی کی بطور گورنر تقرری وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر عمل میں آئی، جس کے بعد صدر پاکستان کو سمری ارسال کی گئی تھی۔ اس تقرری کے ساتھ ہی نہال ہاشمی ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکزی منظرنامے میں نمایاں ہو گئے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کو اکثر مبصرین عروج، زوال اور پھر واپسی کی داستان قرار دیتے ہیں۔

 

نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ کئی برس سے شہر کے علاقے ملیر میں مقیم ہیں۔ کراچی کی سیاست طویل عرصے سے پیچیدہ اور کثیر الجماعتی رہی ہے جہاں شہری سیاست پر زیادہ تر ایم کیو ایم کا اثر رہا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا اثر نسبتاً محدود سمجھا جاتا تھا۔

 

ایسے ماحول میں نہال ہاشمی ان چند رہنماؤں میں شامل رہے جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے کراچی میں پارٹی کی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ پارٹی کے اندر انہیں ایک سرگرم اور جارحانہ مقرر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نہال ہاشمی کی سیاست کا بنیادی محور پارٹی قیادت سے وفاداری اور قانونی و آئینی معاملات پر سخت مؤقف اختیار کرنا رہا ہے۔

نہال ہاشمی کا سیاسی عروج اس وقت نمایاں ہوا جب وہ 1997 سے 1999 تک اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قانون و انصاف رہے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلم لیگ (ن) مرکز میں مضبوط حکومت کے ساتھ اپنے عروج پر تھی۔

 

اس عرصے میں نہال ہاشمی حکومتی پالیسیوں کے پرجوش دفاع کرنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور قانونی و آئینی معاملات پر پارٹی کے موقف کو بھرپور انداز میں پیش کرتے تھے۔

 

تاہم 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد ملکی سیاست کا منظرنامہ بدل گیا۔ مسلم لیگ (ن) کو سخت سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی کے کئی رہنما مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئے۔ اس کے باوجود نہال ہاشمی نے پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھی۔

 

سنہ 2012 میں انہیں مسلم لیگ (ن) کراچی کا صدر مقرر کیا گیا۔ اس وقت پارٹی کی کوشش تھی کہ وہ کراچی جیسے اہم شہر میں اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کرے۔

بعد ازاں اگست 2014 میں نہال ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) سندھ کا جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے شہر میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے کی کوشش کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کی مضبوط موجودگی کے باعث مسلم لیگ (ن) کے لیے اپنی سیاسی جگہ بنانا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔

 

سنہ 2015 میں مسلم لیگ (ن) نے نہال ہاشمی کو سینیٹ کے انتخابات میں پنجاب کی نشست سے امیدوار نامزد کیا اور وہ ایوان بالا کے رکن منتخب ہو گئے۔ اگرچہ ان کا تعلق سندھ سے تھا، تاہم پارٹی قیادت نے انہیں پنجاب سے سینیٹ کی نشست دی، جسے بعض حلقوں نے غیر معمولی فیصلہ قرار دیا۔ سینیٹ میں نہال ہاشمی اپنے جارحانہ بیانات اور تند و تیز اندازِ گفتگو کی وجہ سے خاصے نمایاں رہے۔ وہ اکثر سیاسی اور عدالتی معاملات پر پارٹی مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے تھے۔

 

نہال ہاشمی کے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا بحران سنہ 2017 میں سامنے آیا جب پاناما پیپرز کیس کے دوران ان کی ایک تقریر شدید تنازع کا باعث بنی۔ اس تقریر میں انہوں نے احتساب کے عمل اور بعض ریاستی اداروں کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے جس کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس بیان کے بعد نہ صرف ان کے خلاف عدالتی کارروائی شروع ہوئی بلکہ مسلم لیگ (ن) نے بھی انہیں پارٹی سے نکال دیا۔

 

بعد ازاں عدالت نے انہیں توہین عدالت کے مقدمے میں سزا بھی سنائی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہال ہاشمی کے کیریئر کا ایک اہم موڑ تھا جس کے بعد وہ عملی طور پر سیاسی منظرنامے سے تقریباً غائب ہو گئے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں واپسی کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔ سنہ 2021 میں مسلم لیگ (ن) نے نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت بحال کر دی۔

اس کے بعد وہ دوبارہ پارٹی سرگرمیوں میں متحرک نظر آنے لگے اور ٹی وی پروگراموں میں بھی شرکت کرتے رہے۔ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی واپسی مسلم لیگ (ن) کی اس روایت کا حصہ تھی جس کے تحت پارٹی پرانے اور وفادار رہنماؤں کو دوبارہ موقع دیتی ہے۔

کیا چین پاک افغان جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہو پائے گا؟

نہال ہاشمی کی گورنر سندھ کے طور پر تقرری نے سندھ کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ گورنر کا عہدہ آئینی طور پر صوبے میں وفاق کی نمائندگی کرتا ہے اور اس پر تعیناتی اکثر سیاسی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ اس سے قبل سندھ کے گورنر کامران خان ٹیسوری تھے جن کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے۔ گورنر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہو گئے جہاں وہ عمرہ ادا کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں گورنر کی تبدیلی کے بارے میں میڈیا کے ذریعے علم ہوا اور وفاقی حکومت نے انہیں اس فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا۔ پارٹی رہنما امین الحق کے مطابق اس معاملے پر جماعت کے اندر مشاورت جاری ہے اور جلد باضابطہ مؤقف سامنے لایا جائے گا۔

 

Back to top button