تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجبوراً عوام پر منتقل کرنا پڑیں،وزیرپٹرولیم

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی منڈیاں شدید دباؤ کاشکار ہیں۔تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجبوراً عوام پر منتقل کرنا پڑیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 170 ڈالر فی بیرل کی تاریخی بلند سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت نے کفایت شعاری اپناتے ہوئے اپنے اخراجات میں نمایاں کمی کی اور 50 سالہ کویت پیٹرولیم معاہدے کے تحت ملک کی ضروریات پوری کی گئیں۔
انہوں نے کہاکہ سپلائی میں رکاوٹ کے بعد فوری مشاورت کے ذریعے حل تلاش کیا گیا اور بحران کو کم کیا گیا، جبکہ وزیراعظم کی قیادت میں تیل کی خریداری اور سپلائی کے مؤثر انتظامات کیے گئے۔
ان کے مطابق قطر کے ساتھ 10 سالہ ایل این جی معاہدے کی سپلائی بھی ہرمز بحران سے متاثر ہوئی، تاہم حکومت نے فوری متبادل انتظامات کر کے عوام کو توانائی بحران سے محفوظ رکھا۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت نے اپنے اخراجات میں 140 ارب روپے کی بچت کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لا کر ایل این جی اور توانائی بحران کا حل نکالا گیا۔
علی پرویز ملک نے کہاکہ پاکستان نے عالمی توانائی بحران کے دوران اپنی پالیسی اور عوامی مفاد کو ترجیح دی، جبکہ بحران سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائیں۔
