پینےکےپانی میں نمکیات سے ہائی بلڈپریشرکاخطرہ

ماہرین صحت کاکہناہے کہ پینے کے پانی میں موجود نمکیات انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
پینے کے صاف پانی کو صحت کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق 27 مختلف آبادیوں پر کیے گئے مطالعات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں امریکہ، بنگلہ دیش، ویت نام، کینیا، آسٹریلیا، اسرائیل اور یورپی ممالک شامل تھے۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے زیادہ نمکین پانی استعمال کیا، ان میں سسٹولک بلڈ پریشر (اوپر والا نمبر) اوسطاً 3.2 ملی میٹر مرکری جبکہ ڈائسٹولک بلڈ پریشر (نیچے والا نمبر) تقریباً 2.8 ملی میٹر مرکری زیادہ پایا گیا۔ اسی طرح ان افراد میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً 26 فیصد تک بڑھا ہوا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ انفرادی سطح پر یہ فرق معمولی محسوس ہو سکتا ہے، تاہم وسیع پیمانے پر متاثرہ آبادیوں میں یہ اضافہ عوامی صحت کے لیے اہم نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
