غیر ملکی ایئرلائن کی وجہ سے PIA کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ

پاکستان کی قومی ایئر لائن، پی آئی اے نے حکومت کی جانب سے ایک غیر ملکی ایئرلائن کو اندرون ملک پروازوں کی اجازت دینے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو وارننگ دی ہے کہ اس فیصلے سے پی آئی اے مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے گی۔
ایک خط میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام ملک کی کمزور ایوی ایشن صنعت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور اس کا طویل مدتی نقصان بہت زیادہ ہو گا۔حکومتی شعبے میں کام کرنے والے پی آئی اے کے علاوہ نجی شعبے کی تین ایئر لائنز اس وقت ملک کے داخلی روٹس پر پروازیں چلا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی ’ایئر عریبیہ‘ نامی ایئر لائن کو ایک پاکستانی بزنس گروپ کی ’فلائی جناح‘ نامی فضائی کمپنی کے باہمی اشتراک سے اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ پاکستان میں ایوی ایشن انڈسٹری سے منسلک افراد، ماہرین اور پی آئی اے کی جانب سے اس اقدام کو مقامی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے نقصان قرار دیا گیا ہے تاہم ملک میں ایوی ایشن شعبے کے ریگولیٹر سول ایوی ایشن کی جانب سے ان خدشات کو مسترد کیا گیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ’فلائی جناح‘ میں ایک مقامی بزنس گروپ اکثریتی حصص کا مالک ہے۔
یاد رہے کہ قومی ایئر لائن اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس کی 30 جون 2021 کو ختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایک سال میں پی آئی اے نے 25 ارب کا خسارہ برداشت کیا۔ کمپنی کا زیر جائزہ سال میں ریونیو پیسنجر کلومیٹرز میں بھی 22 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔ وزیر اعظم کو لکھے گئے خط کے مطابق پی آئی اے کے منتظم اعلیٰ بتایا کہ یہ فیصلہ ملک کی کمزور ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ پی آئی اے کے سی ای او کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ قومی ایوی ایشن پالیسی کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت ایئر عریبہ کو اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انھوں نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اب ’فلائی جناح‘ کی جانب سے بیرون سرمایہ کاری کے نام پر ایئر عریبیہ کو اندرون ملک پروازوں کی اجازت مل جائے گی۔
پاکستان میں ایوی ایشن شعبے کے ریگولیٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو اتھارٹی کے ترجمان نے مؤقف دیتے ہوئے سب سے پہلے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اندرون ملک پروازوں کے حقوق کسی غیر ملکی فضائی کمپنی کو دیے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جہاں تک فلائی جناح تک کا تعلق ہے اس میں ایک مقامی بزنس گروپ اکثریتی حصص کا مالک ہے اس لیے یہ ایئر لائن ایک مقامی کمپنی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایک غیر ملکی فضائی کمپنی ملک کے اندرونی روٹس پر قبضہ جما لے گی۔ انھوں نے کہا ملک کی سول ایوی ایشن پالیسی اور اس سے متعلق قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو ملک میں لایا جائے گا ۔
اس سلسلے میں ایوی ایشن کے شعبے کے اُمور سے منسلک افراد سے جب بات کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں بھی ایسا نہیں اور دنیا میں بھی بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی غیر ملکی فضائی کمپنی کو کسی ملک کے داخلی روٹس پر پروازیں چلانے کی اجازت ہو۔ ونگ کمانڈر (ریٹائرڈ) نسیم احمد نے کہا ایسا بہت کم ہوتا ہے تاہم امریکہ میں ترکش ایئر لائن کو ایسی اجازت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصل میں ایسے معاہدے دو فریقوں کے باہمی معاہدے ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا اگر پی آئی اے کو اس پر اعتراض ہے تو اسے چاہیے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکٹائے تاہم انھوں نے کہا یہ اجازت نہیں دینی چاہیے۔
ایوی ایشن انڈسٹری کے افراد کے مطابق ’ایئر عریبیہ‘ اس اقدام کے ذریعے پاکستان میں اپنی فریکوئنسی بڑھانا چاہتی ہے۔ اس بارے میں پی آئی کے ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان کی قومی ایوی ایشن پالیسی کے خلاف ہے جو کسی غیر ملک کی فضائی کمپنی کو یہ حقوق دینے پر ایسے ہی حقوق اپنے ملک کی ایئر لائن کے حاصل کرنے کے لیے کہتی ہے اور آرگینک مارکیٹ گروتھ کے اصولوں کے مطابق ہے۔
