2 ماہ سے سڑکوں کی بندش: پارا چنار جیل کی صورت اختیار کر گیا

خیبر پختون خواہ میں ضلع کرم کے انتظامی شہر پارا چنار اور اس کے نواحی علاقوں کو پشاور اور دیگر شہروں سے ملانے والی اہم ترین شاہراہ کی بندش کو دو ماہ گزر جانے کے بعد اس علاقے کی صورتحال ایک جیل کی سی ہو گئی ہے۔ شاہراہ کی بندش کیخلاف مظاہروں اور احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا ہے تاہم انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ پاڑہ چنار میں احتجاجی دھرنا دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں میں بھی بند شاہراہ کھولنے کے لیے دھرنے اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
شاہراہ کی بندش کے باعث اپر کرم کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سخت سردی میں روز مرہ ضروریاتِ زندگی اور ادویات کی عدم دستیابی نے لوگوں کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے۔ یاد رہے کہ پاڑہ چنار اور نواحی علاقوں کو کوہاٹ، پشاور اور ملک کے دیگر شہروں سے ملانے والی اس اہم شاہراہ کو اکتوبر کے وسط میں اس وقت بند کیا گیا تھا جب اپر کرم کے ایک گاؤں میں متحارب قبائلی گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے تھے۔ اس تصادم کے بعد ضلع کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور متحارب قبائلی فریقین کے درمیان مسلح تصادم کا سلسلہ شروع ہوا جو نومبر کے آخر تک جاری رہا۔ اس تصادم کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ دو سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ کرم کے سرحدی قصبے بگن میں درجنوں گھر، دکانیں اور دیگر امکان بھی خاکستر ہو چکے ہیں۔
نومبر کے آخر میں خیبر پختون خوا حکومت ایک قبائلی جرگے کے ذریعے فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کرانے میں تو کامیاب ہو گئی تھی لیکن پاڑہ چنار کی اس اہم شاہراہ کو آمد و رفت کے لیے ابھی تک نہیں کھولا جا سکا ہے۔ پارہ چنار شہر میں بھی اس شاہراہ کی بندش کیخلاف مظاہرے جاری ہیں۔ پاڑہ چنار میں دھرنا دینے والے مظاہرین نے حکومت کو علاقے میں قیامِ امن اور اہم قومی شاہراہ پر آنے جانے والوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 11 نکاتی مطالبات پیش کر رکھے ہیں۔ ان مطالبات میں پاڑہ چنار روڈ پر پولیس چوکیوں کا قیام اور ان چوکیوں میں دونوں جانب کے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سرِ فہرست ہے۔ اس کے علاوہ کرم کے ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسر کی فوری طور پر تبدیلی اور ان کی جگہ اہل اور غیر جانبدار افسران کی تعیناتی کے مطالبات بھی شامل ہے۔
پاکستان پر پابندیاں لگانے والا امریکہ عمران کی رہائی کیوں چاہتا ہے؟
دوسری جانب ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کا کہنا ہے کہ پاڑہ چنار روڈ کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا ہے۔ ان کے بقول کوہاٹ کے کمشنر ہاؤس میں متحارب فریقوں کے درمیان تنازعے کے مستقل حل کے لیے جرگہ جاری ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سڑک کی بندش کی وجہ سے کرم کے شہریوں کی آمد و رفت میں مشکلات کے پیشِ نظر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر صوبائی حکومت کی ہیلی کاپٹر سروس بھی جاری ہے۔ یہ سروس کرم کے زمینی راستہ کھلنے تک جاری رہے گی۔ اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں کرم کے شہریوں کو درپیش مشکلات کا احساس ہے۔ صوبائی حکومت کرم کے عوام کی مشکلات کو کم کرنے اور انہیں ریلیف دینے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین اور علاقہ عمائدین امن کی خاطر صوبائی حکومت کی کوششوں کا ساتھ دیں۔
