11 ارب کے جہاز کی خریداری: مریم حکومت کا جھوٹ بے نقاب

مریم نواز کی پنجاب حکومت وزیر اعلیٰ کے پر آسائش سفر کے لیے 11 ارب روپے مالیت کے ایک لگژری جہاز کی خریداری کو چھپانے کے لیے بولا گیا جھوٹ بے نقاب ہونے کے بعد اب شرمندگی سے منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کے اربوں روپے کے ایک لگژری جہاز کی خریداری سوالات اور تنقید کی زد میں ہے۔ پنجاب حکومت کے ردِعمل اور وضاحت نے اس معاملے کو سیاسی تنازعے میں بدل دیا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر امریکی طیارہ ساز کمپنی گلف سٹریم ایرو سپیس کے جی 500 ماڈل کے لگژری جہاز کی تصاویر اور ویڈیوز ڈال کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ حکومت پنجاب نے مریم نواز کے وی آئی پی استعمال کے لیے یہ طیارہ خرید لیا ہے۔ اس جہاز کی لاگت 11 ارب روپے سے زائد ہے، حالانکہ بطور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے پاس پہلے ہی دو جہاز موجود ہیں۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد سے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز تنقید کی زد میں ہیں اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ سادگی اور کفایت شعاری کا درس دینے والی قیادت نے عوام کے ٹیکسوں سے 12 ارب روپے مالیت کا جہاز خریدنے کا کیسے سوچ لیا۔
یہ دعویٰ سب سے پہلے 16 فروری کو ایک سوشل میڈیا صفحے کے ایکس اکاؤنٹ پر سامنے آیا، جہاں اس کی قیمت 4 کروڑ امریکی ڈالرز یعنی 11 ارب روپے سے زائد بتائی گئی۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ 12 فروری 2026 سے فعال ہو چکا ہے اور پنجاب کے مختلف ہوائی اڈوں کے درمیان پروازیں کر رہا ہے۔ اسی ایکس اکاؤنٹ پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ طیارہ ایک ہفتہ قبل سے پنجاب کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعلیٰ کے کال سائن کے ساتھ پرواز کر رہا تھا اور یہ پرواز راولپنڈی سے لاہور کے لیے تھی جس کا کال سائن “پنجاب ٹو” بتایا گیا۔
ابتدا میں حکومت پنجاب نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی۔ بعد ازاں وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے سوال کیا گیا تو انہوں نے خریداری کی تردید نہیں کی بلکہ کہا کہ پنجاب حکومت “ایئر پنجاب” کے لیے فضائی بیڑا تشکیل دے رہی ہے اور یہ طیارہ اسی بیڑے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق رواں سال ایئر پنجاب کی سروسز کا آغاز ہونا ہے، جسکے لیے طیارے خریدنے یا لیز پر لینے پڑیں گے۔ تاہم ناقدین اس وضاحت کو جھوٹ پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا دنیا کے کسی ملک میں مسافر پروازوں کے لیے 19 نشستوں والا لگژری وی آئی پی طیارہ خریدا جاتا ہے؟ ان کا مؤقف ہے کہ اگر یہ جہاز واقعی ائیر پنجاب نامی کمپنی کے آپریشن کے لیے خریدا گیا ہے تو اس کی نوعیت کمرشل ہوا بازی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ادھر سینئر اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اطلاعات پنجاب کا دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ ابھی تک ایئر پنجاب کا کوئی باضابطہ وجود سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق نہ تو اس نام سے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے کوئی آپریٹنگ لائسنس حاصل کیا گیا ہے۔
مریم کے لیے 10 ارب روپے مالیت کا نیا لگژری جہاز تنقید کی زد میں
جیو نیوز پر اپنے پروگرام میں شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر طیارہ ایئر پنجاب کے لیے خریدا گیا ہے تو اس کا دفتر کہاں ہے اور اس کا چیف ایگزیکٹو کون ہے؟ مزید یہ کہ اگر یہ کمرشل استعمال کے لیے ہے تو اسے وزیرِ اعلیٰ کے وی آئی پی سفر کے لیے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ اس مقصد کے لیے پہلے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے دو سرکاری جہاز موجود ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وفاقی حکومت خسارے کے باعث پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو فروخت کرنے پر مجبور ہو گئی تو مریم نواز کی پنجاب حکومت ایک نئی فضائی کمپنی کو چلا کر منافع بخش کیسے بنا پائے گی؟
اس معاملے نے تب شدت اختیار کی جب ایک سرکاری سمری منظرِ عام پر آئی جس میں مالی سال 2025-26 کے دوران وی آئی پی پرواز کے لیے ضمنی گرانٹ کی منظوری کا ذکر تھا۔ دستاویز کے مطابق نئے طیارے کے آپریشنل اور مینٹیننس اخراجات پورے کرنے کے لیے تقریباً ایک ارب روپے کی اضافی رقم درکار ہوگی۔ اگر طیارے کی مالیت 10 سے 12 ارب روپے کے درمیان ہے تو اس کی سالانہ دیکھ بھال پر ایک ارب روپے خرچ ہونا ایک بڑا مالی بوجھ تصور کیا جا رہا ہے۔
سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس جہاز کو وزیرِ اعلیٰ اور دیگر اہم شخصیات کے فضائی سفر میں حفاظت، کارکردگی اور اعتماد کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے بیڑے میں شامل کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ طیارہ براہِ راست خریدا گیا ہے یا لیز پر حاصل کیا گیا ہے۔ خریداری کے طریقۂ کار، شفافیت اور مسابقتی بولی کے عمل سے متعلق تفصیلات بھی منظرِ عام پر نہیں آئیں۔
دستاویز کے مطابق متعلقہ محکمے کے پاس نئے طیارے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی فنڈز موجود نہیں تھے، جس کے باعث اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ ان اخراجات میں پائلٹس اور تکنیکی عملے کی تربیت، ایندھن، انشورنس، ٹیکسز اور دیگر آپریشنل ضروریات شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پائلٹس کو ہر چار سے چھ ماہ بعد امریکہ جا کر تازہ تربیتی کورس کرنا ہوگا جبکہ انجینیئرز کی ابتدائی تربیت بھی بیرونِ ملک ہوگی، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یہ تنازع اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خود مختلف مواقع پر سادگی اور کفایت شعاری کا پیغام دیتی رہی ہیں۔ اپوزیشن اور بعض سیاسی مبصرین کے مطابق عوام کو اخراجات میں کمی کی تلقین کرنا اور دوسری طرف اربوں روپے کا لگژری بزنس جیٹ شامل کرنا ایک واضح تضاد ہے۔ حکومتی حلقے اس فیصلے کو وزیر اعلیٰ کے لیے عالمی معیار کے مطابق محفوظ اور پرآسائش سفر سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کی اعلیٰ قیادت کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری ذرائع فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں صحت، تعلیم، صاف پانی اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبے زیادہ ترجیح کے مستحق تھے۔ ان کے بقول 10 سے 12 ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک لگژری بزنس جیٹ کی خریداری وی آئی پی کلچر کے تسلسل کی ایک اور مثال بن سکتی ہے۔
اس فیصلے کے بعد ناقدین ایک سادہ مگر تلخ سوال اٹھا رہے ہیں: کیا معاشی دباؤ کے شکار صوبے میں عوامی ٹیکسوں سے جمع کی گئی رقم کا استعمال ایک اعلیٰ عہدیدار کی سہولت کے لیے لگژری بزنس جیٹ خریدنے پر کیا جانا ایک دانشمندانہ اور جائز فیصلہ ہے، یا یہ فیصلہ شفافیت اور ترجیحات کے تعین پر ایک نئی بحث کو جنم دے گا؟
