15 فروری کے پاک بھارت میچ پر تین ارب کا جوا لگ گیا

15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے پاک بھارت میچ کے ممکنہ نتیجے پر سٹے کی عالمی منڈی میں اب تک کم و بیش تین ارب ڈالرز کا جوا لگ چکا ہے۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 فروری کے میچ سے غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹتے ہی سٹہ مارکیٹوں میں طوفان آ گیا ہے، جہاں انڈیا اور پاکستان کے ریٹس لمحہ بہ لمحہ بدل رہے ہیں اور اس میچ کو کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی جوا قرار دیا جا رہا ہے۔

اس ہائی وولٹیج مقابلے نے نہ صرف سٹے کی انڈر گراؤنڈ اور آن لائن مارکیٹس کو گرما دیا ہے بلکہ میڈیا، اشتہارات، نشریاتی حقوق اور سیاحت کے شعبوں میں بھی غیر معمولی مالی سرگرمی کو جنم دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس اور انڈر گراؤنڈ مارکیٹ کے تخمینوں کے مطابق پاک بھارت میچ پر لگنے والی مجموعی رقم تین ارب ڈالرز کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دبئی، ممبئی، لندن، کراچی، لاہور، بنکاک، ہانگ کانگ، قبرص، کولمبو، جوہانسبرگ
اور ڈھاکہ سمیت بڑے مالیاتی و تجارتی مراکز میں اس میچ پر تاریخ کا سب سے بڑا جوا کھیلنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ اس مرتبہ میگا جیک پاٹ کی نوعیت ماضی سے مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔

طویل تعطل اور میچ بائیکاٹ کے خاتمے کے بعد پاکستان کی جیت یا ہار پر لگنے والے ریٹس تیزی سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ ٹیموں کی غیر یقینی کارکردگی، حالیہ فارم، پلیئنگ الیون سے متعلق قیاس آرائیاں اور میچ کے گرد جاری نفسیاتی جنگ نے داؤ کی مالیت کو دوگنا کر دیا ہے۔ سٹہ ماہرین کے مطابق مائیکرو بیٹنگ یعنی ہر گیند، ہر رن، ہر وکٹ اور پاور پلے کے سکور تک پر داؤ نے مارکیٹ کے حجم میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز جیسے Bet365 اور Robinhood پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے جہاں ہر سیکنڈ لاکھوں ڈالرز کی ٹریڈ ہو رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے بننے والے گراف لمحہ بہ لمحہ بدلتے رجحانات کی عکاسی کر رہے ہیں اور بڑے سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سٹہ سنڈیکٹس کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد غیر قانونی مارکیٹس بھی تیزی سے بحال ہو رہی ہیں، جس سے اس میچ کو کرکٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین جوا قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس میچ کو میڈیا انڈسٹری کے لیے سونا اگلتی سکرینیں کہا جا رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صرف دس سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 25 سے 40 لاکھ بھارتی روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بڑے برانڈز نے میچ سے قبل اور دورانِ میچ اشتہاری سلاٹس بک کرا لیے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بیک وقت 20 کروڑ سے زائد افراد کی لائیو سٹریمنگ متوقع ہے، جو اسے دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے سپورٹس ایونٹس میں شامل کر سکتی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق پاک بھارت مقابلہ روایتی ٹی وی ریٹنگز کے ساتھ ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا انگیجمنٹ اور ڈیجیٹل اشتہارات میں بھی نئے ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔ یہ میچ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اربوں ڈالرز کے نشریاتی معاہدوں کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جیو سٹار (JioStar) کے ساتھ آئی سی سی کا تین بلین ڈالرز کا معاہدہ ایسے ہی ہائی پروفائل مقابلوں پر منحصر ہے اور اس ایک میچ کی عالمی کمرشل ویلیو 250 سے 500 ملین ڈالرز کے درمیان قرار دی جا رہی ہے۔

ہاد رہے کہ آئی سی سی کے موجودہ ریونیو ماڈل کے تحت بھارتی کرکٹ بورڈ کل سالانہ آمدنی کا تقریباً 38.5 فیصد، یعنی لگ بھگ 230 ملین ڈالرز وصول کرتا ہے، جس سے اس میچ کا سب سے بڑا مالی فائدہ بھی بھارت کو پہنچنے کی توقع ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بھی یہ میچ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ بائیکاٹ کے خاتمے کے بعد پاکستان نے اپنے مالی حصے میں اضافے اور مراعات کے لیے بہتر پوزیشن حاصل کی ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف ایک میچ سے پی سی بی کو 15 سے 20 ملین ڈالرز تک کا براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ مقامی اشتہارات اور نشریاتی حقوق سے بھی اربوں روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ میزبان ملک سری لنکا کے لیے یہ مقابلہ معاشی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سری لنکا کرکٹ کو ٹکٹوں کی فروخت، گیٹ منی اور گراؤنڈ اشتہارات سے 25 سے 30 ملین ڈالر تک براہِ راست آمدنی کی توقع ہے۔ کولمبو کے ہوٹلز، ایئرلائنز اور مقامی ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی زبردست کاروباری سرگرمی دیکھی جا رہی ہے اور اندازہ ہے کہ اس ایک میچ سے 92 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی بزنس پیدا ہو رہا ہے۔ بھارت، پاکستان اور برطانیہ سے آنے والے ہزاروں شائقین نے سیاحت کے شعبے میں نئی جان ڈال دی ہے، جو سری لنکا کی حالیہ معاشی مشکلات کے تناظر میں ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پاک بھارت میچ محض کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ بھی ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ، انجریز، پلیئر روٹیشن اور ٹورنامنٹ پریشر نے میچ کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، اور یہی عنصر بیٹنگ مارکیٹس کو گرم رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اتنی بڑی مالی سرگرمی کے ساتھ میچ فکسنگ اورغیر قانونی بیٹنگ کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس کے پیش نظر آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اور متعلقہ بورڈز سیکیورٹی اور نگرانی کے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔
یوں 15 فروری کا یہ ٹاکرا محض 22 کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل معاشی ایکو سسٹم کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں براڈکاسٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا، سپورٹس مارکیٹنگ، سیاحت اور ڈیٹا اینالیٹکس سے وابستہ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ میدان میں جو بھی ٹیم سرخرو ہو، یہ بات طے ہے کہ اس میچ نے کھیل، معیشت اور میڈیا کی دنیا میں مالیاتی سرگرمی کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے اور ہر گیند کے ساتھ نہ صرف سکور بورڈ بلکہ اربوں ڈالر کی عالمی مارکیٹ بھی اوپر نیچے ہو رہی ہے۔

Back to top button