ایران میں قیادت سے متعلق افواہیں، مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق متضاد اطلاعات

 

 

 

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مجلس خبرگان نے انہیں ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔ تاہم اس سے قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ وہ حملوں میں نشانہ بنے ہیں۔

 

ایران کے سرکاری میڈیا نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کے نشانہ بننے کی اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں اور معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وہ کسی حملے کا ہدف نہیں بنے اور محفوظ مقام پر موجود ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہداء سے متعلق امور کی نگرانی کررہے ہیں اور ملکی معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہےکہ سوشل میڈیا پر ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بےبنیاد ہیں۔

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں اور انہیں ایران کے بااثر مذہبی اور سکیورٹی حلقوں میں اثرورسوخ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار مجلس خبرگان کے پاس ہے،لہٰذا کسی بھی ممکنہ تقرری یا تبدیلی کا باضابطہ اعلان اسی فورم سے متوقع ہوتا ہے۔

علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

ایرانی حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ غیرمصدقہ خبروں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔

خیال رہے کہ اتوار کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دورانِ علاج انتقال کی خبروں کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

Back to top button