روس کی پیشقدمی، یوکرائن میں 150 اموات، 300 زخمی

روس کی یوکرین میں پیش قدمی جاری ہے، بحیرہ اسود میں 2 اہم جزیروں زمینی اور اسنیک پر قبضہ کر لیا۔ لڑائی میں 13 یوکرینی فوجی اور 137 شہری ہلاک، 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی فوج کے یوکرائن کے فوجی اہداف پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملے جاری ہیں، ایئر بیس پر کنٹرول کیلئے دارالحکومت کیف کے مضافات میں گھمسان کی لڑائی ہے۔
روسی حمایت یافتہ جنگجو بھی اسلحہ اٹھائے کیف میں داخل ہو گئے۔ روسی فوجیوں نے چرنوبیل ایٹمی پلانٹ پر قبضہ کرلیا ہے، فوجی تنصیبات کو تیس سے زائد بار نشانہ بنایا گیا، گیارہ ایئر فیلڈز، ایک بحری اڈہ تباہ کرنے، ایک ہیلی کاپٹر اور چارڈرون گرانے کا دعویٰ کیا گیا ۔ کروز میزائلوں کا بھی بھرپور استعمال جاری ہے۔
یوکرین کے صدر نے روس کے خلاف ساری فوج کوحرکت میں آنے کا حکم دے دیا ہے، اٹھارہ سے ساٹھ سال کے مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی۔ امریکہ نے ملک چھوڑنے والے یوکرینی باشندوں کو پناہ دینے کی حامی بھرلی۔ دوسری جانب یوکرین پر روسی حملے کے بعد تیل اورسونا مزید مہنگا ہو گیا جبکہ سٹاک مارکیٹس بھی کریش کر گئیں۔ یوکرین پر روسی حملے کے اثرات نے تیزی سے عالمی کاروبار و تجارت کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا۔
روسی حملے کے بعد ہتھیار نہیں ڈالیں گے
روسی فوج کی یوکرین پر لشکر کشی کی خبریں پھیلتے ہی تیل کی عالمی منڈی میں جاری بحران اور بھی شدید ہو گیا جس کے نتیجے میں برینٹ خا تیل کی فی بیرل قیمت 101 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تل کی اوسط فی بیرل قیمت بھی 100 ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔اقتصادی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین میں مسلح تنازع فوری طور پر ختم نہ ہوا تو خام تیل کی عالمی قیمتیں بھی مسلسل بڑھتی رہیں گی جس سے عالمی معیشت کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
