پاک افغان کشیدگی ختم کرنے کیلئے روس اور ایران کی ثالثی کی پیشکش

روس اور ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا مناسب ہے، اور ایران دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

طالبان حکومت نے کابل، پکتیا اور قندھار میں پاکستانی فورسز کی بمباری کی تصدیق کردی

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماہِ مبارک رمضان ضبط نفس اور عالم اسلام میں یکجہتی کے فروغ کا مہینہ ہے، اور یہی وقت ہے کہ افغانستان اور پاکستان اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی اور مکالمے کے ذریعے حل کریں۔

اسی دوران، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی پاکستان اور افغانستان سے فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے اور اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق ضرورت پڑنے پر دونوں ممالک کے لیے ثالثی کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ٹی ٹی پی افغانستان اور پاکستان کی جنگ کی بنیادی وجہ کیسے بنی؟

ادھر، سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں مبینہ دراندازی کے جواب میں پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے طالبان کے متعدد کور ہیڈ کوارٹرز اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز سمیت 27 چیک پوسٹس کو تباہ کیا اور 9 چوکیوں پر قبضہ کیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران 130 سے زائد افغان طالبان ہلاک ہوئے، اور بعض چیک پوسٹس پر طالبان نے مبینہ طور پر سفید جھنڈے بھی لہرا دیے۔

Back to top button