روس کے یوکرین پر حملے سے پاکستانی معیشت کا بھی نقصان

روس کی جانب سے یوکرائن پر فوجی حملے سے جہاں قیمتی جانی نقصان ہو رہا ہے وہیں اس جنگ کے معاشی اثرات پوری دنیا سمیت پاکستان پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حملے کے پہلے ہی روز ہی سٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں، اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں حیران کن حد تک اضافہ ہو گیا یے۔ پاکستانیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ روس کے یوکرین پر حملہ کے بعد اب حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم مارچ سے سات سے آٹھ روپے فی لیٹر اضافہ کرنے جا رہی ہے۔

اسکے علاوہ پاکستانی مارکیٹ میں یوکرائن سے ایکسپورٹ ہونے والی اشیا کی طلب و رسد میں فرق بڑھنا شروع ہو گیا ہے جس سے پاکستانی صنعت کار بھی پریشانی کا شکار ہو چکے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل، گندم اور سٹیل سمیت دیگر خام مال کی بڑی مارکیٹ کے بند ہونے سے پاکستان کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، اور خام مال کی قیمت میں اضافے سے کئی شعبے براہ راست متاثر ہوں گے۔

پاکستان میں سٹیل انڈسٹری سے وابستہ شامون باقر علی کا کہنا ہے کہ وہ یوکرائن سے سٹیل آئٹمز درآمد کرتے ہیں جس میں اب رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، انکا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے دوران روس کے یوکرائن پر حملے کے بعد پاکستان کی مقامی صنعتوں کو بھی مشکلات ہوں گی۔یوکرائن کا موسم سرد ہونے کی وجہ سے وہاں سے دوسرے ممالک میں برآمدات کا مصروف ترین سیزن موسم گرما کا ہوتا ہے، اب گرما کا سیزن آنے والا ہے لیکن ایسے وقت میں جنگ شروع ہو گئی ہے، انکانکہنا ہے کہ پاکستان میں یوکرائن سے درآمد کیا جانے والا سٹیل معیار کے اعتبار سے اچھا اور قیمت کے حساب سے دیگر ممالک کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے۔ لیکن اب جنگ شروع ہونے کے بعد یہ سٹیل نایاب اور مہنگا ہو جائے گا۔

سابق نائب صدر پاکستان فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایم اے جبار کے مطابق موجودہ صورت حال تشویشناک ہے، اس جنگ کا پاکستان پر برا اثر پڑے گا، پاکستان کے لیے یوکرائن ایک اچھی مارکیٹ ہے جہاں سے اشیائے خورونوش اور سٹیل سمیت دیگر خام مال اچھے دام میں مل جاتا ہے، یہ دو بڑی قوتوں کی جنگ ہے لیکن اس کے اثرات نہ صرف یوکرائن کو برداشت کرنا پڑیں گے بلکہ کئی اور ممالک بھی متاثر ہوں گے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روس اور یوکرائن سمیت دیگر ممالک سے نہ صرف اشیائے خورونوش درآمد کرتا ہے بلکہ ملک میں سستے خام مال کی درآمد کا انحصار بھی ان ملکوں پر ہے۔ پاکستان اور یوکرائن کے درمیان کاٹن، ٹیکسٹائل آئٹمز، فارما، آئرن، سٹیل، پلاسٹک، بیج، کھاد، ربڑ، گلاس، کارپیٹ، مشینری، پتھر، چائے، کافی اور کاغذ سمیت دیگر اشیا درآمد کی جاتی ہیں، یوکرائن کی ریاستی شماریاتی سروس کے مطابق 2020 میں دو طرفہ تجارتی ٹرن اوور 411.814 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس میں یوکرینی برآمدات بھی شامل ہیں۔

کیا دورہ روس میں عمران خان اپنا ڈی این اے دے آئے؟

شامون باقر کے مطابق یوکرائن سے درآمد سٹیل تعمیراتی شعبے کے علاوہ بھی سٹیل شیٹس کئی شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں، یہ شیٹس پائپ بنانے میں کام آتی ہیں، اس کے علاوہ آٹو پارٹس میں بھی یہ شیٹس استعمال ہوتی ہیں، اب اگر یوکرائن کے بجائے کسی اور ملک سے یہ درآمد کی جائیں گی تو مہنگے داموں لینا پڑیں گی، اس سے تیار سامان کی پیدارواری لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جس سے براہ راست عام آدمی متاثر ہوگا۔

سابق نائب صدر پاکستان فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایم اے جبار کے مطابق یوکرائن سے امپورٹس کرنے والے کاروباری حضرات روس کے یوکرائن پر حملے سے پریشان ہیں، انکا کہنا ہے کہ پاکستانی معشیت میں تعمیراتی صنعت ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اس جنگ کے بعد جہان خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، وہیں یوکرائن سے برآمد ہونے والی اشیا کی قلت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب سٹیل انڈسٹری سے وابستہ شامون باقر کے مطابق پاکستان میں سٹیل کی مانگ بہت ذیادہ ہے، یوکرائن سٹیل سپلائی میں ایک نمایاں ملک ہے، یوکرائن میں جنگ کے باعث سامان کی ترسیل کا عمل متاثر ہوگا، طلب و رسد کا توازن بگڑنے سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا، دوسرئ جانب اس وقت پاکستان کی صورت حال ایسی نہیں کہ تعمیراتی صنعت پر مزید بوجھ ڈالا جا سکے۔

Back to top button