روس کے حملے سے تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کا خدشہ

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد تیسری عالمی جنگ چھڑ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ روس اور یوکرین تنازع کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی بتاتے ہیں کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 1991 میں یوکرین الگ ملک بن گیا تھا۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کا محل وقوع ہے۔ جب کوئی ملک دو بڑی طاقتوں یا دو تہذیبوں کے درمیان واقع ہو تو اس کی اسٹرٹیجک اہمیت مسلمہ ہوتی ہے لیکن ایسی حیثیت غنیمت بھی ہوتی ہے اور مصیبت بھی۔

یوکرین کے ایک طرف روس اور اس کے زیر اثر بیلا روس کے ممالک ہیں اور دوسری طرف اس کی سرحدیں یورپی ممالک یعنی پولینڈ، مالدووا، رومانیہ، ہنگری اور سلواکیہ سے ملتی ہیں۔ اب ایک طرف ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے یوکرین کی زیادہ تر آبادی یورپ سے متاثر ہے اور آبادی کا ایک حصہ ماضی میں سوویت یونین کا حصہ ہونے کے ناطے روس سے متاثر ہے۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ یوکرین کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی تین قسم کے رجحانات رکھتی ہیں۔ ایک وہ ہیں جو امریکہ اور یورپ نواز ہیں اور نیٹو اور یورپ سے خود کو جوڑنا چاہتی ہیں۔ دوسری بڑی پارٹی علاقائی اپروچ کی حامی ہے جبکہ تیسری جماعت روس نواز ہے اور روس سے جڑے رہنے پر زور دے رہی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور یورپ کے روس کے ساتھ تنازعات ختم ہو گئے۔

ایک تو خطے میں ان کی دلچسپی ختم ہو گئی اور دوسرا انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب روس دوبارہ ان کے لیے کبھی خطرہ نہیں بن سکتا لیکن نائن الیون اور افغانستان میں آنے کے بعد امریکہ کی زیر قیادت نیٹو کی ایک بار پھر خطے میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف چین مقابلے کے لیے ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ تیسری طرف پیوٹن کی قیادت میں روس ایک بار پھر مغرب کو آنکھیں دکھانے کے قابل ہو چکا ہے۔

اس تناظر میں نیٹو اور یورپ نے ایک بار پھر روس اور مغرب کے درمیان حائل یوکرین پر آنکھیں جما لی ہیں جب کہ دوسری طرف روس نے بھی پوری توجہ یوکرین پر مرکوز کر لی ہے اور روسی سرحد سے متصل علاقوں لوہانسک اور ڈونیٹسک کے ان روسی نسل کے آباد لوگون کی مدد شروع کر دی جو خودمختاری کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔

صافی بتاتے ہیں کہ دوسری طرف مرکزی حکومتوں اور عوام کی اکثریت کا رجحان چونکہ یورپ کی طرف تھا اس لیے انہوں نے مدد کے لیے امریکہ اور یورپ سے روابط بڑھا لیے لیکن تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یوکرین میں بھی ایک عمران خان صدر بن گیا۔ صسفی کہتے ہیں کہ میرا اشارہ وکٹر یانو کووچ کی طرف ہے جو 2010 میں یوکرین کے صدر بنے۔ وہ ماضی میں سوویت کمیونسٹ پارٹی کے رکن رہے ہیں اور روس نواز رہنما کے طور پر مشہور تھے۔

کیا سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کیخلاف پٹیشن قبول کرے گی؟

ابتدا میں انہوں نے روس کے ساتھ معاہدہ کیا اور سمندر میں واقع کریمیا کا نیول بیس تیل کی قیمتوں میں رعایت کے بدلے روس کے حوالے کیا، جس کا مغرب نواز یوکرینینز نے برا منایا۔ دوسری طرف انہوں نے ولا دیمیر پیوٹن کی طرح آئین میں ترمیم کرکے اپنے صدارتی اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ کیا لیکن پھر جب انہوں نے دیکھا کہ وہ عوام میں تیزی کے ساتھ غیرمقبول ہو رہے ہیں تو عمران خان کی طرح یوٹرن لے کر دوسری انتہا پر چلے گئے۔ یعنی یورپی یونین ایسوسی ایشن میں شمولیت کے لیے کوششیں شروع کرکے یورپ سے الحاق کے خواہش مندوں کی ہمدردیاں حاصل کیں۔

لیکن 2013کے آخر میں انہوں نے اچانک یوٹرن لیا اور یورپی یونین ایسوسی ایشن میں جانے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے عوام ان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، 2014 تک یہ احتجاج بغاوت کی صورت اختیار کر گیا جس کی وجہ سے ان کو حکومت چھوڑ کر روس بھاگنا پڑا لیکن نفرتیں جنم لے چکی تھیں، اس لیے روسی نسل کے یوکرینینز اور بالخصوص لوہانسک اور ڈونیٹسک اور کریمیا کے لوگوں نے پہلے مغرب نواز حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا اور جب نئی یورپ نواز حکومتوں نے ان کو دبانے کی کوشش کی تو انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے۔

 سلیم صافی بتاتے ہیں کہ 2014 کے بعد پیٹرو پوشینکو یوکرین کے صدر بنے جن کا تعلق یورپین سولیڈیرٹی پارٹی سے تھا یوں وہ یورپ اور امریکہ کے قریب جانے کی کوششوں میں مگن رہے اور جواب میں روس نواز یوکرینی بغاوت کی طرف جا رہے تھے۔ 2019میں موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی صدر بنے جن کا تعلق سرونٹ آف دی پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ بھی یورپ نواز ہیں۔ موصوف بنیادی طور پر ایک فنکار تھے لیکن پھر سیاست میں آ گے اور صدارتی انتخاب جیت لیا۔ انکے دور میں یوکرین کو اپنے اثر سے نکل کر مغرب کی طرف گامزن دیکھ کر روس نے روس نواز یوکرینییز کی امداد بڑھا دی۔

دوسری طرف امریکہ اور نیٹو نے یوکرینی حکومت اور مغرب نوازوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اپنے فوجی، میزائل اور ائیر فورس یوکرین سے جڑے یورپی ممالک میں تعینات کرنی شروع کردی۔ روس ایک تو نیٹو کی کارروائیوں پر معترض تھا اور دوسری طرف یوکرینی حکومت سے کہتا رہا کہ وہ نیٹو اور یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں سے باز رہے۔ روس علاقے میں نیٹو کی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا رہا لیکن مغربی ممالک یوکرینی حکومت کا حوصلہ تو بڑھاتے رہے لیکن عملا کچھ نہیں کیا۔ مثلاً نہ تو اسے یورپی یونین کا ممبر بنایا اور نہ نیٹو کا۔

یورپی یونین کا ممبر اس لیے نہیں بنایا جا رہا کہ یورپی ممالک کو ڈر ہے کہ اس صورت میں بڑی تعداد میں یوکرینی ان کے ملکوں میں نقل مکانی کریں گے۔ دودری طرف اسے نیٹو کا ممبر اس لیے نہیں بنا رہا کہ انکے خیال میں یوکرین کی کنٹری بیوشن بہت کم رہے گی اور وہ نیٹو کی ذمہ داری بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی ممالک نے شدید مذمت کی لیکن عملاً یوکرین کی مدد کے لیے نہیں آئے۔

بقول سلیم صافی، مستقبل میں بھی مغربی ممالک یوکرین کی مدد کے لیے آگے نہیں آئیں گے کیونکہ اس صورت میں چین بھی روس کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا اور یوں تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے جو پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح یورپ کے بعض ممالک بالخصوص جرمنی وغیرہ بھی روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے کیونکہ ان کا زیادہ انحصار روس سے درآمد شدہ توانائی پر ہے۔

اس لیے سلیم صافی کو لگتا ہے کہ روس یوکرین پر قبضہ کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرلے گا۔ پھر یوکرین کے موجودہ صدر بھی سابق افغان صدر اشرف غنی کی طرح امریکہ اور یورپ کی بے وفائی کا رونا روئیں گے جبکہ مغرب صرف دھمکیاں دے گا اور کچھ اقتصادی پابندیوں لگانے تک محدود رہے گا ۔ یوں ایک نئی سرد جنگ کا بھرپور آغاز ہو گیا ہے۔

Back to top button