مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے زور پر معاہدے نافذ نہیں کیے جا سکتے،روس کا واضح موقف

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے زور پر معاہدے نافذ نہیں کیے جا سکتے اور اس طرح کی پالیسی خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں لاروف نے ایران پر امریکی حملوں کے تناظر میں کہا کہ دنیا تیزی سے "طاقت کے قانون” کی طرف واپس جا رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں جبکہ کمزور ممالک کو اس کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی میں صرف اپنے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توازن متاثر ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں زبردستی فیصلے یا معاہدے دیرپا امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
بجلی تنصیبات پر ممکنہ حملہ: ایران نے آبنائے ہومز مکمل بند کرنے کی دھمکی دیدی
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا توانائی کے وسائل کے حصول کے لیے وینزویلا اور ایران میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ یورپ سستی توانائی سے محروم ہو رہا ہے، جس کے معاشی اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
لاروف نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
