یوکرینی شہروں پر روسی حملوں میں مزید تیزی

یوکرین پر روسی حملہ اب دسویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ نیز یوکرین کے متعدد شہر نئے حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ مغربی حکام کا کہنا ہے کہ محاذ جنگ پر فرنٹ لائن کے قریب جانے والے اب تک تین روسی کمانڈر بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

سانحہ 12 مئی پر معافی مانگتے ہیں

جنوب مشرقی بندرگاہی شہر ماریوپول کا محاصرہ کر کے اس پر گولہ باری کی گئی ہے۔ ماریوپول بحیرہ ازوف کے ساحل پر واقع ہے۔ ماریوپول کے میئر وادیم بوائیشینکو کے مطابق شہر میں پانی اور بجلی نہیں ہے اور حملے کے پانچ دن گزرنے کے بعد اب خوراک بھی ختم ہو رہی ہے۔ یوکرین کے صدارتی مشیر اولیکسی آریسٹووچ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماریوپول اب ’’جزوی طور پر محاصرے میں ہے۔‘‘

دریں اثنا دارالحکومت کییف بھی نئے حملے کی زد میں آیا اور شہر کے مرکز سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ روسی فوج کا ایک طویل بکتر بند قافلہ کئی دنوں سے شہر کے باہر رکا ہوا تھا۔ صدارتی مشیر اولیکسی کا کہنا ہے کہ کییف کے شمال مغرب میں فضائی حملے اور توپ خانوں پر مشتمل لڑائیاں جاری ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے شمال مشرقی شہر خارکیف اور اوختیرکا بھی شدید فائرنگ کی زد میں آئے۔

یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ زیپوریشیا پر گولہ باری کرنے کے لیے روس کو جمعے کے روز ہر جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ روسی فوجیوں نے جمعے کی صبح لڑائی کے بعد پاور پلانٹ کا کنٹرول خود ہی سنبھال لیا تھا۔اس دوران یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے یوکرین پر نو فلائی زون نافذ نہ کرنے کے نیٹو کے فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ نئے حملوں سے مزید ہلاکتیں ناگزیر ہیں، نیٹو نے جان بوجھ کر یوکرین پر آسمان بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

مسٹر زیلنسکی یوکرین پر نو فلائی زون نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاہم نیٹو نے یہ کہہ کر اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ فیصلہ نیٹو اتحاد کو بھی جنگ میں گھسیٹ لے گا۔

Back to top button