این اے 128 سے سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہو رہائیکورٹ نے  این اے 128سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سلمان اکرم راجہ کی درخواست پرفیصلہ کرلیا۔

حلقہ این اے 128 کے فارم 45 اور 47 جاری نہ کرنے کا معاملے پر سلمان اکرم راجہ نے ریٹرننگ افسر کامران افضل بخاری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی ۔عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے بارے فیصلہ محفوظ کیا ۔

جسٹس علی باقر نجفی نے امیدوار سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

جسٹس علی باقر نجفی  نے ریمارکس دیے کہ آپ بتائیں کہ آر او نے کیسے توہین عدالت کی؟وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فارم 48 کی تیاری کیلئے عدالت میں یقین دہانی کے باوجود نوٹس نہیں کئے۔آر او نے عدالت میں کرائی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا۔جسٹس علی باقر نجفی کاکہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے معاملے کا نوٹس تو لیا تھا ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہی میرا کہنا ہے آر او کے غلط عمل پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا۔الیکشن کمیشن آر او کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتا۔13فروری کو جاری کیاگیا نوٹیفکیشن آر او نے واپس لیا۔آر او کے نوٹیفکیشن واپس لینے کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہمیں ریلیف دیا۔

وکیل درخواست گزار کادلائل میں کہنا تھا کہ عدالت نے این اے 128 کے ریٹرننگ افسر کامران افضل بخاری کو فارم 47 اور 45 جاری کرنے کا حکم دیا۔

کامران افضل بخاری نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ریٹرننگ افسر کا

امریکہ نے پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل اندرونی معاملہ قرار دیدیا

فارم 47 اور 45 جاری نہ کرنا توہین عدالت ہے۔

Back to top button