سلمان تاثیر کا جنازہ محدود اور قاتل کا جنازہ بھرپور کیوں تھا؟

پاکستانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ انتہا پسند مولویوں کی جانب سے سال 2011 میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھانے کے خلاف دیا جانے والا ایک فتوی تھا۔ یاد رہے کہ سلمان تاثیر کو ان کے ایک پولیس گارڈ ممتاز قادری نے توہین رسالت کے الزام میں گرفتار ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی سے جیل جا کر ملاقات کرنے کی پاداش میں سرکاری اسلحے سے قتل کر دیا تھا۔ 500 علماء کی جانب سے سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھانے کے خلاف دیئے جانے والے فتوے کے باعث مولوی حضرات نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا جس کے بعد پیپلز پارٹی علما ونگ سے منسلک مولانا افضل چشتی نے سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھائی۔ تاہم اس جنازے کے شرکاء کی تعداد کافی محدود تھی۔ بعد ازاں ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کا قتل کرنے پر سزائے موت ہوئی اور اسے فروری 2016 میں پھانسی دے دی گئی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ممتاز قادری کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ یعنی مقتول سلمان تاثیر کا جنازہ محدود تھا جبکہ قاتل ممتاز قادری کا جنازہ بھرپور تھا۔

کہا جاتا ہے کہ تحریک لبیک دراصل سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے ردعمل میں وجود پذیر ہوئی خصوصا جب علامہ خادم حسین رضوی نے راولپنڈی کے علاقے بارہ کوہ میں ممتاز قادری کا مزار بنانے کا فیصلہ کیا۔ موصوف نے یہ عجیب موقف اپنایا تھا کہ ممتاز قادری نے توہین رسالت کرنے والی خاتون کا ساتھ دینے والے گورنر کو قتل کیا تھا اور توہین رسالت کی سزا اسلام میں موت ہے لہذا قادری کو ناجائز پھانسی دی گئی۔

یاد رہے کہ سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے کے خلاف فتوی دینے والوں میں جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی امیر پروفیسر سید مظہر سعید شاہ کاظمی، علامہ سید ریاض حسین شاہ، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری، علامہ ضمیر ساجد، پیر خالد سلطان، پیر غلام صدیق نقشبندی، علامہ سید خضر حسین شاہ، الحاج امجد چشتی، علامہ غلام سرور ہزاروی، علامہ سید شمس الدین بخاری، پیر سید عاشق علی شاہ جیلانی، مفتی محمد اقبال چشتی، علامہ فضل جمیل رضوی، آغا محمد ابراہیم نقشبندی مجددی، مولانا محمد ریاض قادری، مولانا گلزار نعیمی، علامہ سید غلام یٰسین شاہ اور پانچ سو سے زائد دیگر علماء و مفتیان کرام شامل تھے۔

ان انتہا پسند مولویوں نے اپنے مشترکہ بیان میں مسلمانوں کو ہدایت کی تھی کہ نہ کوئی سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھے اور نہ پڑھانے کی کوشش کرے اور گورنر کے قتل پر کسی قسم کے افسوس یا ہمدردی کا اظہار بھی ہرگز نہ کیا جائے کیونکہ گستاخ رسول کا حمایتی بھی گستاخ ہے۔ ان علماء اہلسنت نے ممتاز قادری کو عاشقِ رسول قرار دیتے ہوئے اس کی جرأت، بہادری ایمانی غیرت و دینی حمیت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس جانباز نے امت کی چودہ سو سالہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ یاد رہے کہ آسیہ بی بی سے ملاقات میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اسے اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے کے خلاف فتوی جاری کرتے ہوئے قائدین و علماء اہلسنت نے کہا تھا کہ قانون ناموس رسالت کی مخالفت کرنے والے وزراء، سیاستدان، نام نہاد دانشور اور صحافی بھی توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے ہیں لہذا وہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں۔ بعد ازاں 2016 میں ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد اس کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ ممتاز قادری کا جنازہ دراصل پاکستانی معاشرے کا جنازہ بھی تھا جہاں اسلام کے نام پر قتل کرنے والے قاتل پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، اس کا منہ چوما جاتا ہے اور پھر پھانسی کے بعد اس کے جنازے میں لاکھوں فرزندان توحید کا لشکر اظیار عقیدت کے طور پر شریک ہوتا ہے۔ یعنی پاکستانی معاشرے کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ قاتل کا جنازہ مقتول کے جنازے سے کئی گنا بڑا تھا۔
ناقدین کے مطابق خرافات کی اندھی تقلید بعض اوقات معاشرے کو ایسی کھائی میں دھکیل دیتی ہے جہاں روشن دماغوں کی آنکھیں بھی چندھیا جاتی ہیں اور وہ غلط اور صحیح میں تمیز کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ بھی یے کہ کیا واقعی جنازوں کی لمبائی چو ڑائی اور جنازے میں شریک انسانوں کی تعداد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مرنے والا حق پر تھا؟ ایسے اوصاف و کرادر کا مالک تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ اگر ہم اس پیمانے پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا فیصلہ کریں تو ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کیا تاریخ میں جن شخصیات کے جنازے میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی وہ بھی ہماری اسی تشریح پر پورا اترتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا مسجد گرانے کا حکم واپس لینے سے انکار

ناقدین کہتے ہیں ہم زیادہ دور نہیں جاتے، اپنے ہمسایہ ملک بھارت میں شدت پسند اینٹی مسلم ہندو نیشنلسٹ جماعت شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے کریا کرم یا جنازے کی تصاویر پر نظر دوڑائے لیتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق 15 سے 20 لاکھ لوگ اس جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ کیا اس بنا پر شدت پسند رہنما جس نے ہندو نوجوانوں کو بھڑکایا تھا کہ مسلمان آبادی پر اسکواڈ بنا کر حملہ کریں، کو حق پر قرار دیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جنازے میں شریک ہجوم کا تعلق مرنے والے کی شہرت سے تو ہو سکتا ہے لیکن کردار سے ہرگز نہیں کیونکہ تاریخ میں ایسی برگزیدہ ہستیاں اور پیغمبر بھی گزرے ہیں جنکے جنازے میں گنتی کے افراد شریک ہوئے لیکن ان کے اچھے کاموں سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہوئے۔

Back to top button