ثمر بلور کی نون لیگ میں شمولیت :بلور خاندان کا سیاست چھوڑنے کا فیصلہ

ثمر بلور کی نون لیگ میں شمولیت کے بعد بلور خاندان نے سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما اور پشاور پر 6 دہائیوں تک راج کرنے والے بلور خاندان کے سربراہ، حاجی غلام احمد بلور نے عملی سیاست سے پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے آبائی شہر پشاور کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ بلور خاندان نے پشاور میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز ’بلور ہاؤس‘ کو بھی فروخت کردیا ہے۔

خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ غلام بلور نے گورنر ہاؤس کے قریب واقع پشاور کا واحد ذاتی گھر، بلور ہاؤس، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق گورنر حاجی غلام علی کو بھاری قیمت پر فروخت کر دیا ہے اور اب وہ اسلام آباد منتقل ہوچکے ہیں۔ جس کے بعد سیاسی سرگرمیوں اور پارٹی ترانوں سے گونجنے والا بلور ہاؤس اب ویران دکھائی دیتا ہے۔

مبصرین کے مطابق پشاور کی سیاسی تاریخ اگر کسی ایک خاندان سے جُڑی ہو سکتی ہے تو وہ بلور خاندان ہے۔ غلام احمد بلور، بشیر احمد بلور، الیاس بلور—ان تین بھائیوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے پرچم تلے اپنی پوری زندگی قوم پرستی، جمہوریت اور روشن خیالی کے لیے وقف کر دی۔ تاہم اب غلام احمد بلو اپنے بھائی، بیٹے اور بھتیجے کے دہشتگروں کا نشانہ بننے کے بعد خاموشی سے پشاور میں موجود بلور ہاؤس کا سودا کر کے ہمیشہ کیلئے اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مبصرین کے مطابق پشاور کی گلیوں میں کبھی "باچا خان کے نعرے” گونجتے تھے، آج وہاں خاموشی کا راج ہے۔ جس بلور ہاؤس میں کبھی جمہوریت کے خواب بُنے جاتے تھے، آج وہ کسی اور کے نام ہو چکا ہے۔ جسے کبھی خیبر کی سیاست کا "سیاسی قلعہ” کہا جاتا تھا، وہی پشاور اب خود اپنے محافظوں کو الوداع کہہ رہا ہے۔ غلام احمد بلور، جنہوں نے آمریتوں کا سامنا کیا، جیلیں بھگتیں، بے نظیر اور نواز شریف کو چیلنج کیا، وہ اب خاموشی سے اپنے گھر کا سودا کر چکے ہیں۔ حقیقت میں غلام احمد بلور نے بلور ہاؤس فروخت کر کے خیبرپختونخوا کی سیاست کے ایک عہد کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلیPTI اراکین کی نااہلی سے پیچھے کیوں ہٹنے لگے؟

 

مبصرین کے مطابق پشاور کا بلور ہاؤس صرف ایک رہائش گاہ نہ تھا، وہ ایک سیاسی درسگاہ، ایک مزاحمتی مرکز اور ایک نظریاتی قلعہ تھا۔ اس گھر میں فیصلے ہوتے تھے، اتحاد بنتے تھے، اور تاریخ رقم ہوتی تھی۔یہی وہ جگہ تھی جہاں باچا خان، ولی خان، اکبر بگٹی، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، حتیٰ کہ اشرف غنی جیسے عالمی شخصیات بھی مہمان بن چکے ہیں۔ 1970 سے 1995 تک یہ اے این پی کا غیر رسمی ہیڈکوارٹر تھا، جہاں نہ صرف پارٹی پالیسی بنتی بلکہ مزاحمت کی چنگاریاں سلگتی تھیں۔

مبصرین کے مطابق دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بلور ہاؤس کی مکین بلور فیملی پاکستان کی اس قومی سیاست کا عکس رہی ہے جہاں نظریات کی قیمت جانوں سے چکائی جاتی ہے۔ غلام بلور کے بھائی بشیر بلور کو خودکش حملے میں شہید کیا گیا، بھتیجے ہارون بلور بھی دہشتگردوں کا نشانہ بنے، اور اکلوتے بیٹے شبیر بلور کو بھی قتل کر دیا گیا۔ یہ تنہائیاں شاید غلام بلور کو اس فیصلے کی طرف لے آئیں جس سے وہ ہمیشہ گریز کرتے رہےاور بالٓخر زندگی کے آخری حصے میں انھیں فیملی کے دباؤ پر پشاور چھوڑنا پڑا۔تجزیہ کاروں کے مطابق بلور ہاؤس کا سودا صرف ایک مکان کی فروخت نہیں، یہ ایک نظریاتی وراثت کے بکھرنے کی تمثیل ہے۔غلام بلور کا جانا صرف پشاور سے نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاست سے رخصتی ہے جو نظریے، مزاحمت اور قربانی پر کھڑی تھی۔ اب بلور ہاؤس کی خاموش دیواریں شاید اس قوم کو یہ یاد دلاتی رہیں کہ کبھی یہاں سچ بولا جاتا تھا، کبھی یہاں اختلاف جُرم نہیں تھا، اور کبھی یہاں قوم پرستی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عملی جہاد ہوا کرتی تھی۔

مبصرین کے مطابق غلام احمد بلور کی پشاور سے اسلامآباد منتقلی اور ثمر بلور کی نون لیگ میں شمولیت سے بلور خاندان بالکل بکھر کر رہ گیا ہے۔ بلور خاندان کا یہ بکھراؤ صرف خاندانی معاملہ نہیں، یہ اے این پی کے زوال کی سیاسی علامت بھی ہے۔ ثمر ہارون بلور کا مسلم لیگ ن میں شامل ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ پارٹی کا پرچم اب صرف روایت کی بنیاد پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اگر غلام بلور آخری ستون ہیں تو وہ بھی اب کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button