ثاقب نثار کی مزید کون سی خفیہ آڈیوز سامنے آنے والی ہیں؟

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی خفیہ آڈیوز لیک ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ثاقب نثار کی خواجہ طارق رحیم کے ساتھ مبینہ آڈیو لیک ہو گئی ہے جس میں وہ مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل آڈیو میں خواجہ طارق رحیم سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکو فون کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سر اس کا کوئی اچھی طرح کرارا جواب دیں۔ یہ خاتون یعنی مریم نواز آپ کے خلاف باتیں کرتی ہے اس کو کہیں باہر اچھا سبق سکھائیں۔ جس پر ثاقب نثار ان سے استفسار کرتے ہیں کہ کون سر؟خواجہ طارق رحیم مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز کا نام لیے بغیر کہتے ہیں کہ وہی خاتون جو بولتی ہے، ثاقب نثار نے ان کو جواب دیا کہ سر میں سوچ رہا تھا کہ چھوٹی موٹی بات میں اگر کر دیتا لیکن پھر مجھے بڑے تارڑ صاحب کی بات یاد آگئی۔ وہ کہتے تھے کہ میاں جب کتے بھونکتے ہیں تو ان سے دور کھڑے رہنا چاہئے، اس پر خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ آپ کی یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ ویسے آپ نے اے آر وائی پر اچھا جواب دیا ہے۔
سابق چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایک دوسری بات یہ ہے کہ الحمد اللہ مجھ میں ابھی بھی بہادری ہے کہ میں برداشت کر سکتا ہوں، میں نے جا کر تذبذب کا یا ڈپریشن کا شکار نہیں ہونا، جب ضرورت ہوگی ہم آپ کو بتا دیں گے کہ کچھ دھماکا کر دی۔ مجھے پتا ہے آپ نے کر بھی دینا ہے۔اس پر خواجہ طارق رحیم نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ آپ بس مجھے بتا دینا۔ جب بھی آپ چاہیں. آپ جیسے کہیں گے ویسا ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دعویٰ کیا تھا کہ میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے۔ تاحال ریکور نہیں کیا جا سکا۔ خدشہ ہے کہ میرے موبائل ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میرا وٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی۔ اس سے قبل بھی میری مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر ایک آڈیو بنائی گئی تھی۔ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت چوری کے زمرے میں آتا ہے۔
خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی کئی سازشی آڈیوز اور ویڈیوز حکام تک پہنچ چکی ہیں جنہیں آہستہ آہستہ سامنے لایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف آڈیوز اور ویڈیوز کی صورت میں اپنی ماضی کی سیاہ کاریاں سامنے آنے کے خدشات کا شکار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار خود ہی ایف آئی اے سے رابطہ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب آج کل جس طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے اور انھوں نےجو بیان داغا ہے کہ میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے اور خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یعنی انھوں نے چوری پکڑے جانے سے پہلے ہی اپنی عزت تار تار ہونے کا واویلا شروع کر دیا ہے تاکہ انھیں شک کا فائدہ پہنچ سکے کہ شاید سامنے آنے والی آڈیوز ان کی نہیں بلکہ جعلی ہیں۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی بے ربط باتوں سے لگتا ہے کہ ان کے واٹس ایپ میں موجود اچھا خاصہ مواد متعلقہ لوگوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس میں ان کے متنازع فیصلوں اور ہینڈلرز بارے تمام معلومات موجود ہے اور اپنی چوری سامنے آ جانے کے خوف سے ہی میاں ثاقب نثار نے وضاحتوں کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔
دوسری طرف متوقع آڈیولیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا واٹس ایپ ہیک ہونے والا بیان اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ ان کے واٹس ایپ کے ڈیٹا کو جوڑ کر ان کی جعلی آڈیو بنائی جائے گی۔ صحافی نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سابق چیف جسٹس کی آڈیو ریلیز ہونے والی ہے جس سے بہت سے لوگ چونک جائیں گے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنےوہ-لاگ میں کہا تھا کہ آڈیو لیکس کا طوفان ابھی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کچھ آڈیو لیکس آچکی ہیں اور آئندہ کچھ دنوں میں مزید آنے کا خطرہ ہے۔ یہ وہ آڈیو ٹیپس ہیں جس میں ماضی اور حال دونوں کی ریکارڈنگز ہیں۔ ان میں حاضر سروس اور سابق دونوں طرح کے جج صاحبان کی مختلف کیسز کے حوالے سے غیر متعلقہ افراد سے گفتگو ریکارڈ ہے۔
