سعودی عرب نے کابل میں دوبارہ اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

سعودی عرب نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا ہے۔
افغانستان پر طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سعودی عرب نے تین برس بعد اتوار کے روز کابل میں اپنے سفارت خانے میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
سعودی سفارت خانے کاکہنا ہےکہ مشن کے دوبارہ آغاز کا مقصد افغان باشندوں کو خدمات فراہم کرنا ہے۔
ایک بیان میں سفارتی مشن نے کہاکہ یہ قدم سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات اور دو طرفہ تعاون کےعزم کی عکاسی کرتا ہےجسے دونوں اقوام کے درمیان فروغ دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اگست 2021 میں افغان حکومت کے خاتمے اور طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد متعدد غیر ملکی سفارت خانوں نے کابل میں اپنی سرگرمیاں معطل کردی تھیں اور ملک میں رسمی نمائندگی ختم ہوگئی تھی۔
یورپی یونین کا 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالت سے 25 شہریوں کو سنائی گئی سزا پر اظہار تشویش
واضح رہےکہ ریاض نے 15 اگست 2021 کو اعلان کیا تھاکہ اس نے طالبان کی اقتدار میں واپسی سے پیدا ہونےوالی ’غیر مستحکم صورت حال‘ کی وجہ سے افغان دارالحکومت سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلالیا ہے۔
بعد ازاں نومبر میں سعودی عرب نے کہاکہ وہ افغانستان میں صرف قونصلر خدمات دوبارہ شروع کررہا ہے۔یہ اپنی ’کے ایس ریلیف‘ تنظیم کےذریعے ملک میں انسانی امداد بھی فراہم کرتا ہے۔
رواں ماہ کے شروع میں روس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی جانب اس وقت ایک قدم آگےبڑھایا جب اس کی پارلیمنٹ نے ایک قانون کی منظوری دی جس سے طالبان کو ماسکو کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنا ممکن ہوسکے گا۔
تاہم طالبان کی حکومت کو اب تک کسی بھی ملک نےباضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیاہے۔
