کامران خان حکومت بچانے اور سلیم صافی گرانے پر مصر

وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے حوالے سے سینئر صحافی سلیم صافی تو پر امید ہیں لیکن دوسری جانب کامران خان ابھی تک کنفیوژن کا شکار ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آخری لمحے کوئی فارمولا کپتان کا اقتدار بچا لے گا.
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آخری لمحات میں اپنے ٹرمپ کارڈ سے سرپرائز دینے کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران کو جلد ہی ایسے ایسے سرپرائز ملنے والے ہیں کہ وہ کوئی سرپرائز دینے کے قابل ہی نہیں رہیں گے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سرپرائز سرپرائز سرپرائز۔ 27 مارچ کے جلسے میں سرپرائز دینے کی دھمکیاں دینے والے عمران احمد خان نیازی کو اگلے تین دنوں میں ایسے ایسے سرپرائز ملنے والے ہیں کہ وہ کوئی سرپرائز دینے کے قابل ہی نہیں رہیں گے۔
خیال رہے کہ اپنے گذشتہ روز کے ٹویٹ میں سلیم صافی نے کہا تھا کہ 27 مارچ سے پہلے حکومت کے تینوں اتحادی مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور باپ پارٹی اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیں گے۔ جے ڈی اے سردست حکومت کے ساتھ ہے لیکن وہ بھی یوٹرن لے سکتی ہے۔ صافی کا یہ دعوی وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کو بہت ہی برا لگا۔
انہوں نے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر کےاپنا سخت ردعمل دیا تھا۔ شہباز گل نے لکھا کہ کیا اس کے بعد سلیم صافی نے وزیر اعظم بن جانا ہے۔ بھائی جتنے مرضی اعلان کر لے تیری قسمت میں پھر بھی دن رات عمران کے بغض میں جلنا، کُڑھنا، خبریں گھڑنا، جھوٹ بولنا اور تڑپتے رہنا یے۔
تاہم اپنی بد زبانی کے لیے بدنام شہباز گل کی ٹویٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے سلیم صافی نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ سیلیکٹڈ وزیر اعظم کو ان کے اقتدار کا آخری یوم پاکستان مبارک ہو۔ آرڈیننس فیکٹری کے سربراہ عارف علوی کو 23 مارچ کی آخری سلامی لینا مبارک ہو۔ انشااللہ مہنگائی کے شکار غریب عوام جلد سونامی کی تباہ کاریوں سے نجات پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے۔
سلیم صافی کی طرح سینئر صحافی حامد میر کو بھی یقین ہے کہ عمران خان کا جانا ٹھہر چکا ہے اور اب صرف رسمی کاروائی باقی ہے۔ جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اپنے دعوے کے مطابق کسی قسم کا کوئی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور صرف ڈرامہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ وزیر اعظم کے لیے اپنی کرسی بچانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوچکا ہے، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ باعزت طریقے سے استعفی دے کر گھر چلے جائیں۔
دوسری جانب سخت کنفیوژن کا شکار سینئر تجزیہ کار کامران خان کو اب بھی امید ہے کہ کوئی ایسا راستہ نکل آئے گا جس سے عمران کی حکومت بھی بچ جائیں گی اور اپوزیشن بھی راضی ہو جائے گی۔ پچھلے ایک مہینے سے مسلسل متضاد ٹویٹس اور ویڈیو پیغامات جاری کرنے والے کامران خان کا اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں کہنا ہے کہ بہت خوشی اور اطمینان کی خبر آ چکی ہے، سیاسی بحران کی تاریک سرنگ کے آخر میں روشنی کی کرن پھوٹی ہے۔
اگلے 48 گھنٹے بہت اہم ہیں۔ ملک کو بحران سے نکالنے کی کاوش کے محور جنرل قمر باجوہ ہیں۔ فارمولا وہی ہے۔ ایک ممکنہ معاہدے کا ستون قبل از وقت الیکشن ہوگا۔ ٹویٹر پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کامران خان کا کہنا تھا کہ عوام کیلئے اچھی خبر آ چکی ہے۔ سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن سے واپس آ رہے ہیں۔ گو منزل پر پہنچے نہیں، لیکن منزل اب زیادہ دور نہیں ہے۔
کامران خان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ آثار قرائین اور معلومات بتا رہی ہیں کہ 22 کروڑ پاکستانی ملک میں جاری سیاسی چپقلش بلکہ ہیجان سے چھٹکارے اور آزادی کا سانس لے سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بتایا گیا ہے کہ موجودہ سیاسی جنگ ختم کرنے کے عزم کا اظہار آج ایک اہم اجلاس میں کیا گیا ہے۔ حالات کو سدھارنے کیلئے اپوزیشن کی داد رسی کا سامان بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنا سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ اب پاکستان میں قبل از وقت الیکشن ہونگے۔ اپوزیشن اسے اپنی جیت سمجھ سکتی ہے۔
اس سے پہلے اپنی ایک ٹویٹ میں کامران خان نے کہا تھا کہ عمران خان، اپوزیشن اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مل کر پاکستان کو اس جنجال سے نکال سکتے ہیں۔ راستہ موجود ہے، ہر فریق کی اپنی ذمہ داری ہے مگر وہ گاڑی جو ہمیں اس راستے سے منزل تک پہنچائے گی، عمران خان نے چلانی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن قیادت سے فاش غلطی ہوئی۔
کسی نےغلطی کروا دی یا کوئی جال بچھایا گیا۔ پی ٹی آئی منحرفین ناموں کا قبل ازوقت انکشاف سندھ ہاؤس انٹرویوز نے صدارتی ریفرینس کی ممکنہ کامیابی کا بارود فراہم کر دیا ہے۔ خفیہ آپریشن عدم اعتماد کامیابی کی ضمانت ہوتا، آخری فیصلہ بعد اللہ فون کال کا ہوگا۔
تاہم حامد میر کا کہنا ہے کہ شاید ایسی باتیں کرنے والوں کو اصل صورتحال کا ادراک نہیں کیوں کہ کپتان کا جانا ٹھہر چکا ہے، صبح گیا یا شام گیا۔
