چیف جسٹس نے مسجد نہ گرانے کی درخواست رد کر دی

کراچی میں دینی جماعتوں کے پرزور احتجاج کے باوجود چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزاراحمد نے 49 برس پرانی مدینہ مسجد کو مسمار کرنے کے احکامات واپس لینے سے انکار کر دیا ہے اور اس حوالے سے اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسجد پارک کی جگہ پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون کے عین مطابق ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ویسے بھی اگر پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے اپنا ایک فیصلہ دباو میں آ کر واپس لے لیا تو پھر اسے سارے فیصلے واپس لینا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اتنا ضرور کر سکتی ہے کہ حکومت کو مسجد کی تعمیر کے لئے متبادل جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کردے۔
4 جنوری کو سپریم کورٹ میں کراچی میں تجاوزات گرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے طارق روڈ پر قائم مدینہ مسجد کو مسمار کرنے کے حکم پر نظر ثانی کی استدعا کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اپنے 28 دسمبر کے حکم پر نظر ثانی کرے، عدالت کے حکم کی وجہ سے مذہبی تناؤ جنم لے رہا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت سندھ چاہے تو مسجد کے لیے متبادل زمین دے دے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسجد گرانے کے حکم سے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب، مسجد بننے سے پہلے یہاں موجود پارک تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس۔موقع پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ زمینوں کے قبضے میں مذہب کا استعمال ہو رہا ہے، آپ حکومت کے نمائندے ہیں، چاہتے ہیں آسمان گر جائے لیکن حکومت نہ گرے، عبادت گاہ اور اقامت گاہ میں فرق ہوتا ہے۔ جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ جانتا ہوں یہ ریاست اور صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ مسجد کے لیے زمین دے، تاہم عدالت سے استدعا ہے کہ وہ اپنا حکم واپس لے۔ لیکن چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ جب تک مسجد کی نئی جگہ نہ ملے تب تک اس کو نہ گرانے کا حکم دیں۔
مسز قاضی فائز عیسیٰ کو گھر میں گھس کر دھمکانے والے کون تھے؟
اٹارنی جنرل فار پاکستان نے کہا کہ اس کیس میں سندھ حکومت فریق نہیں بنائی گئی، پہلے صوبائی حکومت سے مدینہ مسجد پر تفصیلی رپورٹ لے لیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ تو بہت گڑ بڑ ہو گئی، ہم اپنا حکم واپس نہیں لے سکتے، اس طرح کیا ہم اپنے سارے آرڈرز واپس لے لیں؟ اگر ایسا کیا گیا تو پھر سپریم کورٹ کو اپنے سارے احکامات واپس لینے پڑیں گے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ حکومت سندھ کی رپورٹ آنے تک مسجد مسمار کرنے کا حکم روک دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارک سے تجاوزات گرانے کا حکم واپس نہیں ہو گا، ہم نے اپنے فیصلے واپس لینے شروع کیے تو اس سب کارروائی کا کیا فائدہ؟اس موقع پر جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ تجاوزات پر مسجد کی تعمیر غیر مذہبی اقدام ہے، اسلام اس اقدام کی اجازت نہیں دیتا، مسجد بنانی ہے تو اپنی جیب سے بنائیں۔ اسکے بعد سپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 28 دسمبر کو سپریم کورٹ نے کراچی میں کڈنی ہل پارک کی بحالی کیس میں پارک کی زمین پر بنی مسجد کا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے مسجد، مزار اور قبرستان سمیت غیرقانونی تعمیرات گرانے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کڈنی ہل پارک بحالی کیس سمیت کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مختلف کیسز کی سماعت کے دوران دیا گیا تھا۔ تاہم اس عدالتی حکم کے خلاف مذہبی عناصر پچھلے کئی روز سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ مسجد کو گرانے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں ناجائز طور پر تعمیر ہونے والے گرینڈ حیات ٹاور اور کراچی میں تعمیر ہونے والے فالکن ٹاور کو تو گرانے کے احکامات نہیں دئیے لیکن مسجدیں گرانے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں جو کہ انصاف کا دہرا معیار ہے۔
